افغان تنازع سے پاکستان کو 600 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان وزارت دفاع کا قومی اسمبلی میں تحریری جواب

پاکستان افغانستان سے فعال دہشتگرد تنظیموں فتنہ الخوارج اور داعش کا مقابلہ کررہا ہے‘عبوری افغان حکومت دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی میں مصروف ہے

 افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ اورسازو سامان بھی ان کے پاس ہے، سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے 200 کلومیٹر سے زائد علاقے پرباڑلگائی ہے،خفیہ آپریشنزکئے جارہے ہیں

  اسلام آباد (آئی این پی ) وزارت دفاع  نے  انکشاف کیا ہے  افغان تنازع سے پاکستان کومجموعی طور پر 600 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ جمعرات کو     قومی اسمبلی میںمحمد جاوید خان کے سوال پر وزارت دفاع کی جانب سے کو تحریری جواب  جمع کرایا گیا ہے ۔جواب میں  بتایا گیا کہ پاکستان افغانستان سے ابھرنے والی دہشت گردی کا دفاع کرتا آرہا ہے ۔  پاکستان افغانستان سے فعال دہشتگرد تنظیموں فتنہ الخوارج اور داعش کا مقابلہ کررہا ہے ،عبوری افغان حکومت دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی میں مصروف ہے، ایسی تنظیموں کو آزادی سے کاروائیاں کرنے کی اجازت دے رہی ہے، دہشتگرد سرحدوں سے حملہ آور ہوکر کارروائیاں کرتے ہیں، افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ اورسازو سامان بھی ان کے پاس ہے،پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے 200 کلومیٹر سے زائد علاقے پرباڑلگائی ہے، 1300سرحدی قلعے اور چوکیاں تعمیر کی گئی ہیں،دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے خفیہ آپریشنز کیے جارہے ہیں،ضم شدہ قبائلی علاقوں میں مقامی افراد کے مسائل حل کیے جارہے ہیں۔  وزارت دفاع نے سماجی اور معاشی معاملات سے متعلق قومی اسمبلی کو بتایا کہ نئے ضم شدہ اضلاع یں مقامی افراد کے مسائل کے حل کے لئے انتھک کوششیں کی گئی ہیں ۔بے پناہ وساہل بروئے کار لائے گئے ہیں ۔ گزشتہ 10 سالوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی ، تعلیم ،صحت کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔کوشش کی جارہی ہے کہ مقامی افراد کو انکے آبائی علاقوں میں نوکریاں دی جائیں تا کہ انھیں الخوارج کے زہر آلود پروپیگنڈے کی زد میں آنے سے بچایا جاسکے ۔ وزارت دفاع نے کہا ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جو افغانستان سے فعال دہشت گرد تنظیموں ، فتنہ الخوارج اور داعش کا مقابلہ کر رہا ہے ، دہشت گردی کے دوران 90 ہزار جانی ، 152 ارب ڈالر کا براہ اور 450 ارب ڈالر کا بلواسطہ مالیاتی نقصان ہوا ہے ، پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے 2200 کلومیٹر علاقے پر باڑ کی تنصیب اور 1300 سرحدی قلعے اور چوکیاں بنائیں گئیں ۔