107ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرضے سرکاری نوعیت کے ہیں، نجی شعبے کے غیر ضمانتی قرضوں کا حجم 17.58 ارب ڈالر ریکارڈ ، ایک سال میں قرضوں میں 4 فیصد اضافہ ہوا: عالمی بینک
جولائی تا اکتوبر تجارتی خسارہ 14 ارب 62 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا‘سالانہ بنیاد پر تجارتی خسارے میں 2ارب ڈالر سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا:ادارہ شماریات کی رپورٹ
اسلام آباد (آن لائن‘آئی این پی) پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم 135 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے اور گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کے بیرونی قرضوں میں تقریباً 100 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیٹ رپورٹ 2026 کے مطابق 2025 کے اختتام پر پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے 135.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ 2015 میں یہ حجم 68.7 ارب ڈالر تھا۔ رپورٹ کے مطابق صرف ایک سال کے دوران بیرونی قرضوں میں 4 فیصد اضافہ ہوا، جس کے باعث قرضوں کی ادائیگی ملکی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج بن گئی ہے۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 107 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرضے سرکاری نوعیت کے ہیں، جبکہ نجی شعبے کے غیر ضمانتی بیرونی قرضوں کا حجم 17.58 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان پر 10.45 ارب ڈالر کے قلیل مدتی بیرونی واجبات بھی موجود ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین 22.4 ارب ڈالر کے قرضوں کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا دوطرفہ قرض دہندہ ہے۔ عالمی بینک کے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) کے ذمے پاکستان کے 19.2 ارب ڈالر جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے 16.83 ارب ڈالر کے قرضے واجب الادا ہیں۔ مجموعی طور پر دوطرفہ قرض دہندگان کے ذمے پاکستان کے 42.4 ارب ڈالر واجب الادا ہیں، جبکہ سرکاری بیرونی قرضوں میں کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کا بھی نمایاں حصہ ہے۔دریں اثناء مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں تجارتی خسارے میں تقریبا 16 فیصد اضافہ ہوگیا۔ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا اکتوبر تجارتی خسارہ 14 ارب 62 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ سالانہ بنیاد پر تجارتی خسارے میں 2ارب ڈالر سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ مالی سال اسی مدت میں تجارتی خسارہ 12ارب 61 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا۔رپورٹ کے مطابق ماہ میں برآمدات 11.33 ارب ڈالر، درآمدات 25.96 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا، برآمدات میں 8.52 فیصد، درآمدات میں 12.59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ستمبر کے مقابلے اکتوبر میں برآمدات 2.84 فیصد اضافے سے 2.92ارب ڈالر رہیں، اس دوران درآمدات 5.72 فیصد اضافے سے 6.80 ارب ڈالر رہیں۔اکتوبر میں ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ 10.30 فیصد اضافیسے3.87 ارب ڈالر رہا، اکتوبر 2025 کے مقابلے تجارتی خسارہ 19.70 فیصد تک بڑھ گیا