سولر کی سستی بجلی خرید کر مہنگی بیچنے کا منصوبہ
لیسکو نے منصوبے کے ابتدائی نفاذ کے لیے ڈیفنس کے گرڈ اسٹیشن کا انتخاب کرنے کی منصوبہ بندی کرلی،سولر سسٹمز سے حاصل ہونے والی اضافی بجلی کو بیٹری اسٹوریج کے ذریعے محفوظ کرکے رات کے اوقات میں صارفین کو فراہم کی جائے گی
لاہور ( خصوصی رپورٹ) وفاقی حکومت نے دن کے وقت صارفین سے سولر سسٹم کی بجلی سستی خرید کر رات کو 50 روپے یونٹ فروخت کرنے کا پلان بنایا ہے، سولر سسٹمز سے حاصل ہونے والی اضافی بجلی کو بیٹری اسٹوریج کے ذریعے محفوظ کرکے رات کے اوقات میں صارفین کو فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت دن میں سولر صارفین سے گرڈ میں آنے والی اضافی بجلی خرید کر اسے گرڈ اسٹیشنز پر نصب بیٹریوں میں ذخیرہ کیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت سولر صارفین سے گرڈ میں فراہم کی جانے والی بجلی 25 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی اور رات کے اوقات میں ذخیرہ شدہ بجلی اسی فیڈر کے صارفین کو 50 روپے فی یونٹ کے حساب سے فراہم کرنے کی تجویز ہے، اسی طرح نیٹ بلنگ پالیسی کے تحت دن کے وقت سولر صارفین سے 8 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی حاصل کی جائے گی، جسے رات کے وقت 50 روپے فی یونٹ کے نرخ پر صارفین کو فروخت کیا جائے گا۔ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی یعنی لیسکو نے اس منصوبے کے ابتدائی نفاذ کے لیے ڈیفنس کے گرڈ اسٹیشن کا انتخاب کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے، منصوبے کی کامیابی اور نتائج کا جائزہ لینے کے بعد اسے دیگر علاقوں تک وسعت دینے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے، لاہور کے ڈیفنس اور جوہر ٹا ئون ایسے علاقے ہیں جہاں سولر سسٹمز کے ذریعے قابل ذکر مقدار میں بجلی پیدا کی جارہی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس کے باعث ابتدائی طور پر انہی علاقوں میں اضافی سولر بجلی کو ذخیرہ کرنے اور رات کے وقت استعمال کرنے کا نظام متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے، منصوبے کا بنیادی مقصد دن کے اوقات میں سولر سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو ضائع ہونے سے بچانا اور اسے بیٹری اسٹوریج کے ذریعے رات کے وقت استعمال میں لانا ہے، اس نظام سے سولر بجلی کی دستیابی کو دن کے بجائے رات کے اوقات تک بھی توسیع دینے میں مدد مل سکتی ہے۔