بارش متوقع، کئی حفاظتی بند ٹوٹ گئے

نالہ ڈیک میں سیلابی صورتحالظفروال میں نالہ کا پْل بیٹھ دریائے ہنزہ پھر بپھر گیا گلگت میں الرٹ جاری 
اسلام آباد ،ظفروال،لاہور،قصور ،تلونڈی ،گلگت(خصوصی رپورٹ)محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں کل سے 17 اگست تک تیز ہوا ئوں کے ساتھ مزید بارشوں کی پیش گوئی کر دی، ادھر ظفروال میں نالہ ڈیک میں سیلابی صورتحال، ہنجلی کے مقام پر پْل بیٹھ گیا،ٹریفک مکمل طور پر معطل،دریائے ستلج کے متعدد حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی کھڑی فصلوں میں داخل،ادھر دریائے ہنزہ پھر بپھر گیا ، 50 مزدور بال بال بچے ، گلگت بلتستان میں گلوف الرٹ جاری ۔تفصیلات کے مطابق14اگست سے خیبر پختونخوا، پنجاب ، اسلام آباد میں آندھی اور بارش کا امکان ہے، سندھ میں 18 سے 22 اگست تک بارش اور تیز ہوائیں، 18 سے 21 اگست تک کشمیر، گلگت بلتستان میں موسلادھار جبکہ بلوچستان کے شمال مشرقی علاقوں میں بھی بارشیں متوقع ہیں۔ادھر ظفروال سے گزرنے والے نالہ ڈیک میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے جبکہ پل بیٹھنے سے ظفروال سے چونڈہ، بڈیانہ سیالکوٹ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ،ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا نے اسسٹنٹ کمشنر ظفروال کے ہمراہ متاثرہ پل کا دورہ کیا جبکہ موضع منگوال اور لہڑی کے مقامات پر سینکڑوں ایکڑ دھان کی فصل زیر آب آ گئی ۔ علاوہ ازیں بھارتی آبی جارحیت کے باعث دریائے ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی۔ کنگن پور کے علاقوں میں ہرچوکی چھبر کوٹھی فتح محمد سے پانی دریا کے پیٹ سے باہر نکل کرفصلوں میں داخل ہونے لگا ، سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آنے کا خدشہ ہے جبکہ نگر چنداسنگھ ،فتی والا بنگلہ دیش بستی،نگر گا ئوں ودیگر علاقوں کے حفاظتی بندٹوٹنے سے پانی فصلوں میں داخل ہوچکا ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیوں کیلئے سرگرم ہیں۔ دریائے چناب میں مرالہ خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ دریا ئوں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔دوسری جانب محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کرتے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔جبکہ حکومت گلگت بلتستان کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا ہے کہ دریائے ہنزہ کے سیلابی ریلوں نے گلمت اور گوجال کے مقام پر تباہی مچا دی ، پہاڑی پتھر گرنے سے ہنزہ کے مقام پر شاہراہ ریشم بلاک ہوگئی جس کے نتیجے میں مسافر پھنس گئے، گلگت بلتستان بدترین سیلابی تباہیوں کی زد میں ہے۔