کوشش ہوگی اقوام متحدہ سے بھی بی ایل اے، مجید بریگیڈ پر پابندی لگوائیں بلاول بھٹو

 پی ٹی آئی پہلے کہتی تھی نیوٹرل تو جانور ہوتے ہیں اب ان سے پوچھیں نیوٹرل بہتر تھا یا نہیں‘ صوبوں کو ان کا حق دینا پڑے گا، ہم چاہتے ہیں  نئے این ایف سی کیلئے  فوری طور پر اجلاس بلایا جانا چاہیے
 سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو پاکستان کو اس کے حق کا پانی دینا پڑے گا، دریائے سندھ پاکستانیوں کیلئے لائف لائن ہے، اس معاملے پر سندھ کے لوگوں کا ساتھ چاہیے:حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو
حیدر آباد(آئی این پی )چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے  دہشتگرد تنظیمیں عوام کو نشانہ بناتی ہیں، کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)  اور مجید بریگیڈ نے بھارت کا ساتھ دیا، کوشش ہوگی کہ اقوام متحدہ سے بھی ان دہشتگرد تنظیموں پر پابندی لگوائیں، پی ٹی آئی پہلے کہتی تھی نیوٹرل تو جانور ہوتے ہیں اب ان سے پوچھیں نیوٹرل بہتر تھا یا نہیں۔ حیدرآباد میں خان بہادر حسن علی آفندی پاک کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  بلاول بھٹو نے کہا کہ امریکا نے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشتگرد قرار دے کر پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے، جو بڑی کامیابی ہے، یہ تنظیمیں مزدوروں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے حالیہ پاکستان-بھارت تنازع میں کھل کر مودی کا ساتھ دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ مودی سرکار دریائے سندھ کا پانی روکنے کے اعلان سے باز نہیں آرہی، لیکن سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو پاکستان کو اس کے حق کا پانی دینا پڑے گا، دریائے سندھ پاکستانیوں کے لیے لائف لائن ہے، اس معاملے پر سندھ کے لوگوں کا ساتھ چاہیے، تمام پاکستانی اس پر یکساں آواز اٹھائیں، یہ پاکستان کے کروڑوں عوام کی زندگی کا سوال ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں پانی کی عالمی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے زراعت کے لیے جدید طریقے اپنانے ہوں گے، ڈریپ ایریگیشن سمیت جدید تکنیکس اپنا کر ہم پانی کو بچاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کو ان کا حق دینا پڑے گا، ہم چاہتے ہیں کہ نئے مالیاتی ایوارڈ (این ایف سی )کے لئے  فوری طور پر اجلاس بلایا جانا چاہیے، آئین کے تحت ہر 5 سال بعد این ایف ایوارڈ دینا چاہیے ۔ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس جمع نہ کرنے کی سزا صوبوں کو نہ دی جائے، اسلام آباد میں بیٹھے بابے اپنی ناکامی کی سزا صوبوں کو نہ دیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت یا کسی سیاسی جماعت نے ہم سے 27 ویں آئینی ترمیم کے لیے رابطہ نہیں کیا، 27 ویں ترمیم کی افواہیں چل رہی ہیں، یہ میڈیا کے دوستوں سے سن رہا ہوں، لیکن بطور سیاسی جماعت ہم سے حکومت نے اب تک اس حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ پیپلز ہائوسنگ کا منصوبہ عالمی اداروں اور این جی اوز کی مدد سے مکمل کر رہے ہیں، جس کے تحت سندھ بھر میں لاکھوں خاندانوں کو گھر بناکر دے رہے ہیں، یہ منصوبہ کرپشن سے پاک اور اتنا شفاف اور ڈیجیٹائز ہے کہ اسے کوئی بھی آن لائن چیک کرسکتا ہے، یہ منصوبہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وژن روٹی، کپڑا اور مکان کے مطابق ہے۔