پہلگام واقعے سے متعلق بھارتی حکومت کے بیانیے اور مبینہ سیاسی مفادات پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
بھارتی صحافی اجے شکلا نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے کے پس پردہ مودی حکومت کے سیاسی مقاصد کارفرما تھے اور متعدد بھارتی شخصیات پہلے بھی اس حوالے سے سوالات اٹھا چکی ہیں۔اجے شکلا کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کی گئی، تاہم بھارت میں موجود بعض ناقدین اور سیاسی شخصیات نے حکومتی مؤقف پر تحفظات کا اظہار کیا۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی سیاستدان شنکر سنگھ واگھیلا بھی ماضی میں گجرات کے واقعات کے حوالے سے مودی حکومت پر سنگین الزامات عائد کر چکے ہیں، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے بعض حلقوں کی جانب سے بھی پہلگام واقعے کو ایک منظم سازش قرار دینے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔بھارتی سیکیورٹی امور کے ماہر ڈاکٹر اجے ساہنی سے بھی منسوب کیا گیا ہے کہ انہوں نے پہلگام واقعے کو ایک سوچا سمجھا منصوبہ قرار دیا۔
اسی طرح سابق گورنر مقبوضہ جموں و کشمیر ستیا پال ملک نے بھی مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے قوم سے معافی مانگنے اور عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ سابق رکن اسمبلی وجے تیواری سے بھی واقعے کی ذمہ داری بھارتی حکومت پر عائد کرنے سے متعلق بیانات منسوب کیے گئے ہیں۔بھارتی گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور نے بھی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ دہشت گردی کے واقعات حکومت کے دور میں ہی کیوں پیش آتے ہیں اور واقعے کے فوراً بعد پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے۔تاہم ان دعوؤں اور الزامات کے حوالے سے مختلف فریقین کے مؤقف میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ پہلگام واقعے کی ذمہ داری اور اس کے پس پردہ عوامل سے متعلق حتمی حقائق کے تعین کے لیے آزادانہ اور قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔