زرعی برآمدات بڑھانے کیلئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں کسی علاقے میں 2 گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے شہبازشریف

ملک بھر میں بجلی کی ترسیل اور دیگر تمام مسائل سے متعلق عوامی شکایات کے ازالے کیلئے ڈسکوز کی سطح پر کنزیومر گریوینس ریڈریسل کمیٹیاں قائم کرنے کے احکامات‘ کمیٹیوں میں عوامی نمائندگی بھی ہونی چاہیے 
زرعی شعبہ ملکی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے،  زرعی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لئے   مربوط اقدامات کی ضرورت ہے،، وفاق اور صوبوں میں مؤثر شراکت داری ضروری ہے
تجارتی تاخیر ختم، کاروباری لاگت کم اور برآمدات بڑھانے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں‘ تجارت میں سہولت کاری کے ذریعے پاکستان کو عالمی سپلائی چینز کا موثر حصہ بنانے کیلئے پرعزم ہیں:وزیراعظم کی اجلاسوں میں گفتگو
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘آئی این پی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر نوٹس لیتے ہوئے حکام پر اظہار برہمی کیا اور ہدایت کی ہے  کسی بھی علاقے میں دو گھنٹے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے۔وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی کی لوڈ مینیجمینٹ پر اہم جائزہ اجلاس ہوا جہاں بتایا گیا  خطے کی صورت حال اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ترسیلی مشکلات کے باعث آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہونے سے بجلی کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں طلب و رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مجبوراً لوڈ مینجمنٹ کرنی پڑ رہی ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے  خطے کی صورت حال اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، آر ایل این جی کی ترسیل میں تعطل سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، تمام دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال کیا جائے تاکہ کسی علاقے میں دو گھنٹے سے زیادہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ ہو۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں بجلی کی ترسیل اور دیگر تمام مسائل سے متعلق عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ڈسکوز کی سطح پر کنزیومر گریوینس ریڈریسل کمیٹیاں قائم کرنے کے احکامات دیے۔انہوں نے ہدایت کی ہے کہ مذکورہ کمیٹی میں عوامی نمائندگی بھی ہونی چاہیے اور ایک ہفتے کے اندر ان کمیٹیوں کو فعال کیا جائے۔دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف نے زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کیلئے  عالمی منڈیوں تک رسائی میں اضافے، نئی منڈیاں تلاش کرنے اور زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر رابطے اور شراکت داری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔وزیراعظم کی زیر صدارت زرعی شعبے اور زرعی برآمدات کے فروغ سے متعلق اعلی سطحی اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں ملک میں فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، لائیو اسٹاک کی ترقی اور زرعی برآمدات میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اسلئے   زرعی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لئے  مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے بیرون ملک پاکستانی مشنز میں تعینات کمرشل افسران کو موثر کردار ادا کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی رسائی بڑھانے اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لئے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔زیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ٹریڈ فیسلی ٹیشن بورڈ کا پہلا اجلاس ہوا، جس میں تجارت سے متعلق طریقہ کار میں موجود رکاوٹوں کے خاتمے، کاروباری لاگت کم کرنے، برآمدات کے فروغ اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک تیزی سے پہنچانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا‘اجلاس میںشہباز شریف نے کہا ہے  حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے اور تجارت کے فروغ کیلئے پرعزم ہے، تجارت میں آسانی اور کاروباری سرگرمیوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔و۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تجارتی تاخیر ختم، کاروباری لاگت کم اور برآمدات بڑھانے کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ تجارت میں سہولت کاری کے ذریعے پاکستان کو عالمی سپلائی چینز کا موثر حصہ بنانے کیلئے پرعزم ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ٹریڈ فیسلی ٹیشن بورڈ کا مقصد تجارت سے متعلق طریقہ کار کی رکاوٹیں دورکرنا ہے، بڑی بندرگاہوں پرتمام متعلقہ ادارے کاروباری برادری کوایک ہی مقام پر سہولیات فراہم کریں۔