بغیر وجہ تبادلہ جج کو سزا دینے کے مترادف ہو گا: چیف جسٹس پاکستان کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو جواب

بغیر وجہ تبادلہ جج کو سزا دینے کے مترادف ہو گا: چیف جسٹس پاکستان کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو جواب

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز تبادلے کے معاملے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر کو تحریری جواب ارسال کر دیا ہے، جس میں اس اقدام پر آئینی و ادارہ جاتی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

تحریری جواب کے مطابق چیف جسٹس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ججز کے تبادلے کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس محض غیر رسمی درخواستوں پر نہیں بلایا جا سکتا، اور ایسی درخواست کو قبول کرنا ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ بغیر واضح وجوہات کے جج کا تبادلہ دراصل اسے سزا دینے کے مترادف ہو سکتا ہے، جو عدالتی نظام کے توازن اور آزادی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں صوبائی نمائندگی کے توازن کے متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، جبکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ججز کی واپسی سے بھی ادارہ جاتی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق اگر بڑی تعداد میں ججز کا تبادلہ کیا گیا تو عدالتی نظام میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جو عدلیہ کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہو گا۔تحریری جواب میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ججز کے خلاف کارروائی کا باقاعدہ طریقہ کار آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت موجود ہے اور اسی کے مطابق ہی کوئی کارروائی ممکن ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کے انتظامی تبادلے عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری کے منافی ہو سکتے ہیں، تاہم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آئینی طریقہ کار کے تحت اور مقررہ ارکان کی ریکوزیشن پر بلایا جا سکتا ہے۔