ویب ڈیسک: حکومت نے سیلاب متاثرین کو بجلی کے بلوں میں ایک ماہ کے استثنیٰ دینے پر غور شروع کردیا ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے وزارتِ خزانہ کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رابطہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے تاکہ بجلی بلوں میں ریلیف کے امکانات پر بات کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ ریلیف صرف شہروں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ پورے پاکستان کے سیلاب زدہ دیہی و شہری علاقوں کے متاثرین کو دیا جائے گا۔ادھر حالیہ تباہ کن بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے اربن فلڈنگ پر قابو پانے کے لیے نئی پالیسی اور لائحہ عمل تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے حکام کے مطابق وزیراعظم نے وزارت کو ہدایت کی ہے کہ:اربن فلڈنگ اور جنگلات کے بے دریغ کٹاؤ پر فوری اقدامات کیے جائیں۔صوبوں کو کلائمیٹ ریزیلینس ایکشن پلان کے اہداف دینے کے لیے کوآرڈینیشن کی جائے۔شہری علاقوں میں ڈرینیج سسٹم بہتر بنانے پر فوکس کیا جائے۔جنگلات کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے نئی پالیسی تشکیل دی جائے۔حکام نے بتایا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی آئندہ ممکنہ سیلابی خطرات کم کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر صوبوں سے رائے طلب کرے گی۔