ویب ڈیسک: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے سیلاب سے متاثرہ شہریوں کے بجلی بلوں میں توسیع اور ریلیف کا اعلان کر دیا ہے۔
لیسکو ہیڈکوارٹر لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو بجلی بل جمع کرانے کے لیے اضافی وقت دیا جا رہا ہے اور اگر مزید ریلیف کی ضرورت پڑی تو ڈسکوز اضافی چارجز بھی معاف کریں گے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک بھر کے 3 کروڑ 30 لاکھ صارفین میں سے 1 کروڑ 80 لاکھ صارفین پہلے ہی 70 فیصد رعایت حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی بحالی کے کام میں سیلابی پانی کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے، تاہم حالات بہتر ہوتے ہی مکمل سروس بحال کر دی جائے گی۔اويس لغاری نے مزید بتایا کہ لیسکو ملازمین نے وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں اپنی ایک دن کی تنخواہ عطیہ کی ہے، اور گھروں میں سولر سسٹم استعمال کرنے والے صارفین کے بل بھی کم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے باعث بجلی کے ٹیرف میں واضح کمی آئی ہے، تاہم نئے آئی پی پیز کی نیٹ میٹرنگ سے عوام پر فی یونٹ 4 روپے اضافی بوجھ پڑا ہے، جسے حکومت قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کے تحت فی یونٹ بجلی 1.89 روپے کمی کی منظوری دی تھی، جس سے گھریلو صارفین کو 3 ماہ تک ریلیف ملے گا۔
سیلاب کی صورتحال سنگین
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کی رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں سیلابی صورتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ ملتان میں دریائے چناب کے قریب ہیڈ محمد والا پر حفاظتی شگاف ڈال کر 3 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ جلالپور پیروالا اور دریائے ستلج کے کنارے واقع 140 سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں۔راجن پور، بہاولپور، فیصل آباد اور چشتیاں سمیت کئی اضلاع میں درجنوں دیہات زیر آب آچکے ہیں۔ ہیڈ بلوکی پر دریائے راوی کا بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جبکہ دیگر دریاؤں میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال نازک ہے اور مزید ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔