مغربی بنگال کے 2026 اسمبلی انتخابات کے بعد پورے بھارت میں جمہوریت، انتخابی شفافیت اور اقلیتی حقوق سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ممتا بنرجی کی جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس کے طویل اقتدار کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی نے انتخابی عمل پر سوالات کو جنم دیا ہے۔اپوزیشن جماعتوں اور سیاسی مبصرین کا دعویٰ ہے کہ انتخابات سے قبل “اسپیشل انٹینسیو ریویژن” کے نام پر تقریباً 90 لاکھ ووٹرز کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے گئے، جو مجموعی ووٹرز کا تقریباً 12 فیصد بنتے ہیں۔ناقدین کے مطابق متاثرہ ووٹرز کی بڑی تعداد مسلم اور دلت آبادی والے علاقوں سے تعلق رکھتی تھی۔ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا پر “غیر اخلاقی کھیل” کھیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ووٹروں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب سووندو ادھیکاری کے ماضی کے بعض بیانات بھی دوبارہ زیرِ بحث آ گئے ہیں۔
اپوزیشن حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کے بیانات اقلیتوں کے حوالے سے سخت سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔انتخابات کے دوران ڈھائی لاکھ سے زائد مرکزی فورسز کی تعیناتی بھی شدید تنقید کی زد میں رہی، جبکہ نتائج کے بعد مختلف علاقوں میں تشدد، سیاسی دفاتر کو نذرِ آتش کرنے، کارکنوں پر حملوں اور مذہبی کشیدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔رپورٹس کے مطابق بعض علاقوں میں مسلم شناخت سے منسوب سڑکوں کے بورڈز ہٹانے اور ان کی جگہ ہندو علامات نصب کیے جانے کے واقعات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔