مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کیا ہے، جس کے نتیجے میں ریاست کے گورنر آر این روی نے اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کردیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسمبلی کی مدت جمعرات کی رات ختم ہونی تھی، اور بھارتی آئین کے مطابق، اگر اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرتی ہے تو وہ خود بخود تحلیل ہوجاتی ہے، اور موجودہ کابینہ نگران حکومت کے طور پر کام جاری رکھ سکتی ہے۔ تاہم، اس بار انتخابی نتائج پر تنازع اور ممتا بنرجی کے استعفیٰ سے انکار نے صورتحال کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔ ممتا بنرجی نے سیاسی بحران پیدا ہونے سے بچنے کے لیے استعفیٰ دینے سے انکار کیا، جس کے بعد گورنر نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اقدام سیاسی محاذ آرائی اور آئینی بحران کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ گورنر کا یہ عمل قانونی اور آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال مغربی بنگال میں سیاسی کشیدگی اور مستقبل میں انتخابات کے حوالے سے اہم اثرات مرتب کرسکتی ہے، اور سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر تبصرے جاری ہیں۔