چین نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور معاشی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کی ہے، جو اس کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔
اس منصوبے کا مقصد نہ صرف چین کی معیشت میں جدید ٹیکنالوجیز، جیسے مصنوعی ذہانت (AI) اور کوانٹم کمپیوٹنگ، کو سرایت دینا ہے بلکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور نایاب معدنیات (Rare Earth Minerals) پر قبضہ قائم کرنا بھی ہے۔
ٹیکنالوجی میں خود کفالت
چین روبوٹکس، AI، 6G نیٹ ورک، اور اوپن سورس سافٹ وئیرز میں بڑے منصوبے چلا رہا ہے۔مقامی سطح پر بنیادی ٹیکنالوجیز تیار کر کے مغربی اجزاء پر انحصار کم کرنا اس کا ہدف ہے۔
نایاب معدنیات پر گرفت
لڑاکا طیارے اور جدید ہتھیار بنانے کے لیے درکار نایاب معدنیات پر چین کی حکمتِ عملی مرکوز ہے۔مثال: ایک ایف-35 اسٹیلتھ جیٹ کے لیے سیکڑوں پاؤنڈز نایاب معدنیات کی ضرورت ہوتی ہے، جسے چین کنٹرول کر رہا ہے۔
انسانی اور روبوٹک وسائل
سکڑتی ہوئی افرادی قوت کے خلا کو روبوٹکس اور AI کے ذریعے پُر کیا جا رہا ہے۔کچھ منصوبے انسانی دماغ کو براہِ راست کمپیوٹر سے جوڑنے پر بھی کام کر رہے ہیں۔
مغرب اور امریکہ کے مقابلے میں حکمت عملی
امریکہ جدید چپس اور میزائل سسٹمز پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، جبکہ چین وسیع ٹول کٹ بنا رہا ہے تاکہ مغربی اجزاء کے بغیر خود کفیل ہو سکے۔اس طرح چین جنگ میں استعمال ہونے والے ساز و سامان کی تیاری کے تمام وسائل اپنی گرفت میں رکھ کر بغیر لڑے بھی عالمی مقابلے میں برتری حاصل کر سکتا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
اگر چین AI، روبوٹکس اور نایاب معدنیات میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو اگلی عالمی ٹیکنالوجیکل جنگ کا فیصلہ فوجی میدان سے پہلے ہی گوداموں اور فیکٹریوں میں ہو سکتا ہے۔
اس سے امریکہ کے ایف-35 جیٹ اور دیگر ہتھیاروں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔