چین نے ایک ایسا جدید غیر مہلک ہتھیار متعارف کروایا ہے جو دشمن ملک کے بجلی کے نظام کو بغیر کسی دھماکے کے مکمل طور پر مفلوج کر سکتا ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے جمعرات کو اس ٹیکنالوجی پر مبنی ایک اینیمیٹڈ ویڈیو جاری کی جس نے بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
کیا ہے یہ "بلیک آؤٹ بم"؟
اس نئے ہتھیار کو غیر رسمی طور پر "بلیک آؤٹ بم" کہا جا رہا ہے۔ ویڈیو کے مطابق، یہ بم ایک زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے داغا جاتا ہے جو ہوا میں جا کر تقریباً 90 چھوٹے ذیلی بم (submunitions) خارج کرتا ہے۔ یہ ذیلی بم زمین سے ٹکرا کر اوپر کی طرف اچھلتے ہیں اور فضا میں انتہائی باریک کاربن فائبر پھیلاتے ہیں۔یہ کاربن فائبرز ہائی وولٹیج پاور لائنز اور بجلی گھروں کے آلات میں شارٹ سرکٹ پیدا کر کے پورے بجلی کے نظام کو ناکارہ بنا سکتے ہیں — بغیر کسی دھماکے یا جانی نقصان کے۔
دائرۂ اثر اور استعمال کا طریقہ
سی سی ٹی وی کے مطابق، اس بم کی افادیت کا دائرہ تقریباً 10,000 مربع میٹر ہے، جس کے ذریعے دشمن کے:
بجلی گھر
ٹرانسفارمر اسٹیشنز
کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز
جیسے بنیادی ڈھانچوں کو خاموشی سے غیر فعال کیا جا سکتا ہے۔
خفیہ ٹیکنالوجی: نام اور تفصیلات پوشیدہ
دلچسپ طور پر ویڈیو میں نہ تو اس میزائل کا سرکاری نام ظاہر کیا گیا اور نہ ہی اس کی تفصیلی تکنیکی معلومات دی گئی ہیں۔ اسے صرف "ایک مقامی ساختہ میزائل" کہا گیا ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ چین اس ٹیکنالوجی کو اب تک خفیہ رکھنا چاہتا ہے۔
تاریخی پس منظر
ایسے گرافائٹ بم پہلے امریکا نے 1991 کی خلیجی جنگ میں عراق کے خلاف استعمال کیے تھے۔ بعد میں نیٹو نے 1999 میں کوسووو جنگ میں بھی اسی طرز کے ہتھیار سربیا کے خلاف استعمال کیے تھے۔ تاہم چین کا یہ نیا ورژن زیادہ جدید اور مؤثر سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا ردعمل
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار "الیکٹریکل وارفیئر" (Electrical Warfare) کی نئی جہت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں دشمن کو مکمل مفلوج کیا جا سکتا ہے، مگر بغیر جانی نقصان یا عمارتوں کی تباہی کے۔
ممکنہ خطرات
یہ ٹیکنالوجی جہاں ایک طرف جدید دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ بن سکتی ہے، وہیں دوسری جانب یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ توانائی کے نظام کو سیکیورٹی کے ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔