وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ "کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے، اپوزیشن بینچز سے درخواست ہے کہ وہ بانیٔ پی ٹی آئی کے بجائے پاکستان کی بقا کی جنگ لڑیں، پاکستان کی بقا کی بات کریں، ایک شخص کی بقا کی بات نہ کریں۔"خواجہ آصف نے کہا کہ "یہ لوگ اقتدار کی جنگ لڑ سکتے ہیں، لیکن ملک کی سالمیت کی جنگ لڑنے سے عاری ہیں۔" انہوں نے خاص طور پر بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کی مذمت کی اور کہا کہ نہتے مسافروں کو قومیت کی بنیاد پر علیحدہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے اس واقعے پر جو کچھ کیا، وہ پوری قوم نے دیکھا۔"انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے مسافروں کو قومیت یا صوبائی تعلق کی بنیاد پر الگ کیا، اور یہ واقعہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگِ میل تھا۔ خواجہ آصف نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ وہ صرف اقتدار کے لیے سرگرم ہیں اور پاکستان کی بقا کے لیے نہیں لڑتے۔ایوان میں اپنی تقریر کے دوران، خواجہ آصف نے پی ٹی آئی اراکین کو تنقید کا نشانہ بنایا جو شور شرابا کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا، "یہ لوگ کہتے ہیں کہ بانیٔ پی ٹی آئی نہیں تو پاکستان نہیں، وہ باتیں مت کریں جن سے آپ کو شرمندگی ہو۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ مارشل لاؤں کی پیداوار ہیں، اور ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنے تک آگے نہیں بڑھ سکتے۔خواجہ آصف نے کہا کہ جب مشرف نے ریفرنڈم کروایا تھا، تو بانیٔ پی ٹی آئی اس کے ساتھ کھڑے تھے، اور انہوں نے اپنی تقریر میں ماضی پر معذرت کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ "پاک فوج نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ ہے"، اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سرفراز بگٹی نے دہشت گردوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونے کی مثال پیش کی، جبکہ اپوزیشن اس خوف سے بیان نہیں دیتی۔انہوں نے آخر میں کہا کہ "کل وزیراعظم اور صدر کو غیر قانونی کہا گیا، تو کیا چیئرمین پی اے سی ان کی نظر میں قانونی ہے؟ ان کی تنخواہیں قانونی ہیں؟" اس سوال کے ذریعے خواجہ آصف نے اپوزیشن کے موقف پر مزید تنقید کی۔