سینیٹر زرقا اور شاہد خٹک کے درمیان سخت جملو ں کا تبادلہ‘لطیف کھوسہ کی ایران کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف قرارداد کی تجویز پیش کردی
کمیٹیوں سے نکل کر کچھ نہ ملا‘ہم اپنا موقف بھی نہیں پیش کرسکتے، کمیٹیوں سے استعفیٰ کے بجائے ایوان سے ہی استعفے دے دیں:شیرعلی ارباب
اسلام آباد (آئی این پی ‘آن لائن)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اسمبلیوں سے استعفیٰ کی تجویز سامنے آگئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں لطیف کھوسہ نے ایران کی کھل کر حمایت کرنے کا کہا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے، لطیف کھوسہ نے ایوان میں قرارداد پیش کرنے اور ایوان کی اسرائیل کی مخالفت کا کہا۔ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ شیر علی ارباب نے کہا کہ کمیٹیوں سے نکل کر کچھ نہ ملا اور ہم اپنا موقف بھی نہیں پیش کرسکتے، کمیٹیوں سے استعفیٰ کے بجائے ایوان سے ہی استعفے دے دیں۔شیر علی ارباب نے کہا ہمارے پاس پبلک اکائونٹس کمیٹی تھی جس میں ہم اپنی حیثیت اور طاقت منواسکتے تھے، اگر کمیٹیوں میں واپس نہیں آتے تو اسمبلیوں سے بھی استعفے دے دیتے ہیں۔ اپوزیشن اجلاس میں تمام ارکان کو رائے کا موقع دیا جا رہا ہے، اپوزیشن ارکان کی رائے کو دیکھتے ہوئے مشترکہ فیصلے کیے جائیں گے۔دریں اثناء اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اس وقت تلخ صورتحال پیدا ہوگئی جب سینیٹر زرقا سہروردی تیمور اور رہنما شاہد خٹک کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران زرقا سہروردی تیمور کی گفتگو کے دوران شاہد خٹک بار بار انہیں ٹوکتے رہے جس پر دونوں رہنماؤں کے درمیان بحث چھڑ گئی۔ ذرائع کے مطابق زرقا سہروردی تیمور نے کہا کہ انہیں شوکاز نوٹس دیا گیا، اگر پارٹی نکالنا چاہتی ہے تو نکال دے مگر اس طرح بے عزت نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ دباؤ میں آکر چلی جائیں گی تو یہ ان کی بھول ہے۔ سینیٹر زرقا نے مزید کہا کہ پارٹی اگر ان کے خلاف کوئی مؤقف رکھتی ہے تو ثبوت کے ساتھ سامنے لایا جائے کہ انہوں نے کہاں غلطی کی ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں بیرسٹر گوہر علی خان نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ایران کی جنگ جاری ہے جبکہ دوسری طرف ہم اپنی اندرونی لڑائیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔سینیٹر زرقا سہروردی تیمور نے سینیٹ کے ماحول پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ایوان بالا میں باعزت انداز میں گفتگو ہوتی تھی مگر اب چند افراد کے آنے کے بعد وہاں بھی بدتمیزی دیکھنے میں آ رہی ہے