قومی اسمبلی کی 19، خیبرپختونخوا اسمبلی کی 25، پنجاب اسمبلی کی 27 اور سندھ اسمبلی کی 3 نشستیں بحال کر دی گئیں‘ مجموعی طور پر 74 نشستیں بحال کی گئیں
قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 123 ‘پیپلز پارٹی 74‘ ایم کیو ایم کی22ہوگئی‘پنجاب اسمبلی میں ارکان کی بحالی کے بعد ن لیگ سب سے بڑی جماعت بن گئی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘آن لائن) الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے اضافی مخصوص نشستوں پر اراکین کی رکنیت بحال کردی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں اور جنرل نشستوں پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب امیدواروں کی واپسی کالعدم قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 74 نشستیں بحال کی ہیں۔ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کی 19، خیبرپختونخوا اسمبلی کی 25، پنجاب اسمبلی کی 27 اور سندھ اسمبلی کی 3 نشستیں بحال کر دی گئی ہیں۔الیکشن کمیشن نے اس فیصلے کے تحت 24 اور 29 جولائی 2024 کو جاری کردہ وہ نوٹیفکیشنز بھی واپس لے لیے ہیں جن کے ذریعے پی ٹی آئی کے امیدواروں کی واپسی ظاہر کی گئی تھی۔دریں اثناء قومی اسمبلی نے مخصوص نشستوں کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاالیکشن کمیشن کا فیصلہ موصول ہوتے ہی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے نوٹفکیشن جاری کیاقومی میں ممبران کی کل تعداد 333 ہو گئی َحکمران اتحاد کی نشستیں 235 ہو گئی ٰہیں جبکہ اپوزیشن اتحاد کے پاس کل نشستیں کم ہو کر 98 ہو گئیں۔336کے ایوان میں 333 ممبران قومی اسمبلی کا حصہ ایک ممبر قومی اسمبلی صدف احسان کی رکنیت معطل ہے۔دو مخصوص نشستیں تاحال خالی ہیںقومی اسمبلی میں ن لیگ کی مجموعی نشستیں 123 ہو گئیںپیپلزپارٹی کی 74 اور جے یو آئی کی 10 نشستیں ہو گئیں۔قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ نے قومی اسمبلی میں نئی پارٹی پوزیشن جاری کر دی ۔مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی کی تعداد 123 ہو گئی پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 74 ہو گئی حکمران اتحاد میں شامل ایم کیو ایم کے ارکان کی تعداد 22، ق لیگ 5، آئی پی پی کے 4 ارکان مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کا ایک ایک رکن حکمران اتحاد میں شامل‘ چار آزاد ارکان کی حمایت دی حکمران اتحاد کو حاصل قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کے ارکان کی مجموعی تعداد 235 ہو گئی حکمران اتحاد کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی دو تہائی اکثریت کے لیے 224 ارکان کی حمایت درکارقومی اسمبلی سیکرٹیریٹ کے مطابق سنی اتحاد کونسل کے ارکان کی تعداد 80 ہے ایوان میں اپوزیشن کو پانچ آزاد ارکان کی حمایت حاصل جمیعت علمائے اسلام کے ارکان کی تعداد 10 ہو گئی ایم ڈبلیو ایم، پی کے میپ اور بی این پی کا قومی اسمبلی میں ایک ایک رکن ہے اپوزیشن ارکان کی مجموعی تعداد 98 ہوگئی قومی اسمبلی میں مجموعی طور پر ارکان کی تعداد 333 ہوگئی تین نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔#/s#الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں ارکان کی بحالی کے بعد مسلم لیگ نون سب سے بڑی جماعت بن گئی‘الیکشن کمیشن کی جانب سے بحالی کے بعد پنجاب اسمبلی میں نون لیگ کی خواتین کیلئے مخصوص ارکان کی تعداد 36 سے بڑھ کر 57 ہو گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی مخصوص نشستوں پر خواتین ارکان کی تعداد 3 سے بڑھ کر چار ہو گئی۔ مسلم لیگ ق کی خواتین کیلئے مخصوص ارکان اسمبلی کی تعداد 2 سے بڑھ کر 3 ہو گئی۔ استحکام پاکستان پارٹی کیلئے خواتین کی تعداد ایک سے بڑھ کر 2 ہو گئی۔