مراد علی شاہ نے حکومت سندھ کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کردی

مراد علی شاہ نے حکومت سندھ کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کردی

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حکومت سندھ کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کردی

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حکومت سندھ کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی ہے۔ یہ تقریب وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوئی، جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، ارکانِ اسمبلی، بیوروکریٹس، اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوئے۔مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ "ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ قیادت کے وژن کے مطابق کرتے ہیں۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ حکومت نے ڈیجیٹلائزیشن پر خاص توجہ دی ہے، اور کہا کہ "جب ہم پڑھتے تھے تو اس وقت ٹیکنالوجی پرانی تھی، اب دور بدل چکا ہے۔"انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہاری کارڈ کا اجراء کیا، اور ہاریوں کو ڈیجیٹل طریقے سے رجسٹرڈ کیا گیا۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں 28 ارب روپے کسانوں کو دیے گئے ہیں، جبکہ 13,428 طلباء کو گریجویٹ کرایا گیا ہے۔انہوں نے سندھ حکومت کی مختلف ترقیاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں 196 نئی روڈز کی اسکیمز شروع کی گئیں اور مجموعی طور پر 2500 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ مزید یہ کہ سندھ حکومت کی 14 سرکاری عمارتوں کو سولرائز کیا گیا ہے، جس سے ان عمارتوں کی توانائی کی کھپت میں 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے دنیا کے سب سے بڑے ہاؤسنگ منصوبے، پیپلز ہاؤسنگ منصوبے کا آغاز کیا، جس میں 20 لاکھ ویلیڈیشن مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ 11 لاکھ بینک اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں اور 4 لاکھ مکانات مکمل ہو چکے ہیں۔ ورلڈ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس منصوبے کو انتہائی شفاف قرار دیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے معذور افراد کے لیے سالانہ 90 ملین روپے کے فنڈز فراہم کرنے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ گمبٹ اسپتال میں 1185 لور ٹرانسپلانٹ کرائے گئے ہیں۔ جناح اسپتال میں تیسری سائبر نائیف نصب کی گئی ہے، اور انڈس اسپتال کے نئے کامپلیکس میں 18 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ انہوں نے کراچی کے ٹراما سینٹر میں 13,000 سے زائد سرجریز ہونے کا بھی ذکر کیا۔

مراد علی شاہ نے سندھ حکومت کی مختلف ترقیاتی اقدامات کی کامیابیوں کو سراہا اور آئندہ بھی ایسے منصوبوں پر کام کرنے کی عزم کا اظہار کیا۔