اسمبلی کی تحلیل پر آرٹیکل 6 کا کیس بنتا تھا، سیاسی بردباری کا مظاہرہ کرکے آرٹیکل 6 کی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا:وزیر قانون
وزیرقانون کو یاد نہیں سندھ ہائوس میں بھی منڈی لگی تھی:شبلی فراز ‘ جوابات دینا کابینہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے،چیئرمین سینیٹ
اسلام آباد (آئی این پی)سینیٹ کے اجلاس میں وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے تحریک عدم اعتماد کو روکنے کی کوشش شرمناک تھی۔ آرٹیکل 6 نہ لگانے کا فیصلہ سیاسی تھا۔ اپوزیشن رہنما شبلی فراز نے کہا وزیرقانون کو یاد نہیں سندھ ہائوس میں منڈی لگی تھی، چئیرمین سینیٹ کے الیکشنز غیر قانونی۔ چھبیسویں آئینی ترمیم غیرآئینی تھی۔ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس 16نکاتی ایجنڈے کے تحت جاری کیا گیا جس میں 2 توجہ دلا نوٹسز شامل تھے۔اجلاس میں سابق سینیٹرمشتاق احمد کے بھائی کے قتل پرسینیٹ میں دعائے مغفرت کی گئی۔ وقفہ سوالات کے دوران متعلقہ وزرا کی عدم موجودگی پر چئیرمین سینیٹ نے کہا کہ جوابات دینا کابینہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ ایوان میں ارکان کی مجموعی تعداد 96 ہوگی، بھٹو صاحب کا کیس بھی تو پچاس سال بعد لگا، کل کو یہ بلوچستان اور سندھ والوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے، چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد ہم عدالت بھی نہیں جا سکتے، صدرنے کل مشترکہ ایون سے خطاب کیا پیپلزپارٹی منافقت چھوڑدے، جب ہم قانون کو توڑیں گے تو ہماری کیسے عزت ہوگی ، وزیر قانون اس بات کا جواب دیں گے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، اسپیکر، چیئرمین سینیٹ بند کمرہ اجلاس بلائیں، ہم حاضر ہو جائیں گے، سیکرٹری کابینہ و دیگر حکام بھی اجلاس میں حاضر ہوں گے، کے پی سے سینیٹ کی نشستوں کا معاملہ عدالت میں ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پارلیمان سے ہی سب ادارے طاقت حاصل کرتے ہیں، اعلی ترین عہدوں پرمختلف تعیناتیاں پارلیمنٹ ہی کرتی ہے، اسمبلی کی تحلیل پر آرٹیکل 6 کا کیس بنتا تھا، سیاسی بردباری کا مظاہرہ کرکے آرٹیکل 6 کی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔