پنجاب حکومت نے سیلز ٹیکس قوانین میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جن کے تحت غیر ملکی فرنچائز، برانڈ، رائلٹی اور دیگر خدمات حاصل کرنے والی کمپنیوں کو ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت دینے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق موجودہ قوانین میں موجود تضادات کے باعث متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پنجاب میں ٹیکس ادائیگی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا تھا، جبکہ کئی کمپنیوں نے ان قوانین پر اعتراضات بھی اٹھائے تھے۔ دوسری جانب سندھ میں ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت کے باعث کاروباری حلقے پنجاب میں بھی اسی نوعیت کی سہولت کا مطالبہ کر رہے تھے۔نئی ترامیم کے تحت بیرون ملک سے فرنچائز، برانڈ، رائلٹی یا دیگر خدمات حاصل کرنے والی کمپنیاں ادا کیے گئے ٹیکس کو ایڈجسٹ کر سکیں گی، جس سے ان کے مالی بوجھ میں کمی اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
حکومت نے ٹیکس وصولی اور ڈی رجسٹریشن کے اختیارات میں بھی اہم تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔ مجوزہ ترامیم کے مطابق اسسٹنٹ کمشنرز کی جگہ انفورسمنٹ اور آڈٹ افسران کو بعض اختیارات دیے جائیں گے، جبکہ ڈی رجسٹریشن کا اختیار "اتھارٹی" سے واپس لے کر "کمشنر" کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے ٹیکس نظام مزید مؤثر، شفاف اور سرمایہ کار دوست بنے گا، جبکہ صوبے میں کاروباری سرگرمیوں اور ٹیکس وصولیوں میں بہتری آنے کی توقع ہے۔