عوامی ٹیکس میں کمی کے لیے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور قوانین میں تبدیلی کی جائے گی، وزیراعظم

عوامی ٹیکس میں کمی کے لیے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور قوانین میں تبدیلی کی جائے گی، وزیراعظم

اسکردو/اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر اصلاحات سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار کو وسیع اور سرکاری آمدن میں اضافے کے لیے جو اصلاحات جاری ہیں، ان کا فائدہ براہِ راست عام آدمی کو ہوگا، کیونکہ ان اقدامات سے عام شہری پر ٹیکس کا بوجھ کم پڑے گا۔

اجلاس کی تفصیلات:

وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ایف بی آر کی کارکردگی، اصلاحاتی پیش رفت اور ٹیکس چوری روکنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔وزیراعظم نے انکم ٹیکس آرڈیننس اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ کی مختلف شقوں میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ ان ترامیم کا مقصد ٹیکس وصولی کے نظام میں موجود رکاوٹیں دور کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدگی سے ٹیکس دینے والے افراد اور کمپنیوں کو نئی ترامیم سے کوئی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ کاروباری برادری کو بلاوجہ ہراساں کیے جانے کا خاتمہ کیا جائے گا اور ٹیکس کا عمل آسان بنایا جائے گا۔

ٹیکس چوری کے خلاف کریک ڈاؤن:

وزیراعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ تمام شعبوں میں ٹیکس چوری، انڈر انوائسنگ، جعلی رسیدوں اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف فوری اور ترجیحی بنیادوں پر کارروائیاں کی جائیں۔ خاص طور پر غیرقانونی سگریٹس اور دیگر اشیاء کی تجارت پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ڈیجیٹل نظام اور مانیٹرنگ:

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور وڈیو مانیٹرنگ جیسے جدید نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے تمباکو، سیمنٹ، شوگر، مشروبات اور پولٹری سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکس چوری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان نظاموں کی بدولت ایف بی آر غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کی بہتر نگرانی کر پا رہا ہے۔

صوبائی سطح پر بھی اختیارات:

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ صوبوں کو بھی غیر قانونی تمباکو مصنوعات ضبط کرنے کے اختیارات دے دیے گئے ہیں جبکہ پولٹری انڈسٹری کی نگرانی کے لیے بھی ایک مؤثر مانیٹرنگ سسٹم بنایا جا رہا ہے۔