صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کا تحفظ اور ان کی تعلیم ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو محفوظ بچپن اور معیاری تعلیم کا حق حاصل ہے۔ آئین کے آرٹیکل 11 کے تحت بچوں سے جبری مشقت اور استحصال کی ممانعت کی گئی ہے، جبکہ آرٹیکل 25-A تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔صدر مملکت کے مطابق بچوں سے مشقت ان کے مستقبل اور تعلیم دونوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے، اسی لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کے مؤثر نفاذ کے بغیر اس مسئلے پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔انہوں نے والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ بچوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق کوئی بھی معاشرہ بچوں کے استحصال کو برداشت نہیں کر سکتا اور قوموں کی پہچان ان کے بچوں کے ساتھ سلوک سے ہوتی ہے۔
صدر نے کہا کہ ہر بچے کو اسکول میں ہونا چاہیے اور تعلیم میں سرمایہ کاری ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔اسی موقع پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بھی بچوں سے مشقت کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچہ محفوظ مستقبل، تعلیم اور مساوی مواقع کا حق رکھتا ہے، جبکہ بچوں کا استحصال انہیں بہتر زندگی سے محروم کر دیتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور تعلیم کے فروغ کے لیے مؤثر قانون سازی اور مسلسل اقدامات ناگزیر ہیں۔