امریکہ اور ایران کے دوسرے روز بھی ایک دوسرے پرحملے(ٹرمپ نے تیل تنصیبات پر قبضے کی دھمکی دیدی)

امریکی حملوں اور فوجی جھڑپوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے تمام جہاز وں کی آمدورفت بند کردی:ایرانی میڈیا کا دعوی 
امریکہ  خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے  توانائی منڈیوں کا  کنٹرول سنبھال لے گا:ٹرمپ
 واشنگٹن،تہران (آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ کی ٹرمپ کی دھمکی کے بعد   امریکی فوج نے ایران  پرپھرحملے کردئیے  ،دارلحکومت    تہران سمیت مختلف شہر وں میںدھماکوں کی گونج سنائی دی گئی  جبکہ ایران نے امریکی حملے کے جواب میں بحرین میں پانچویں امریکی نیول بیس اور کویت میں امریکی اڈے سمیت 18 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے،  تہران  کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بھی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے جبکہ سینٹ کام نے تردیدکردی ۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات کی صبح  دارلحکومت تہران اور  ایرانی شہربندرعباس میں بھی دھماکا سنا گیا  ۔تہران کے مہر آباد ایئر پورٹ، کرج شہر، ابیق اور قزوین میں دھماکے سنے گئے۔   شم اور ہینگام جزائر پر میزائل حملے ہوئے   جبکہ ایرانی بندرگاہ گر گان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق   ایرانی شہر سیریک اور میناب میں دھماکوں کی آواز یں سنی گئیں  ، مغربی تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال ہوگیا  ۔ ایرانی  میڈیا  کہنا ہے کہ امریکا کے حملے کے بعد  آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔امریکی جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ایرانی اعلی مشترکہ فوجی کمان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا ۔دریں اثنا ء  سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا  ہے امریکہ مستقبل قریب میں ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ آئی لینڈ اور دیگر توانائی تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔امریکی فوج ایران پر بڑے پیمانے پر تابڑ توڑ حملے شروع کرے گی۔امریکہ مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا۔ یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے۔ ایرانی بحریہ، فضائیہ، ریڈار نظام، فضائی دفاع اور اس کی زیادہ تر جارحانہ عسکری صلاحیت پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں۔