کارروائی ڈرون حملوں کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مل کر کی گئی‘مزید کشیدگی نہیں چاہتے‘مستقبل میں حملے کئے تو اپنی خودمختاری کا دفاع کرینگے:سعودی وزارت خارجہ
سعودی عرب نے تیل تنصیبات پر ڈرون حملہ ناکام بنا دیا‘سعودی عرب پر میزائل حملوں سے کوئی تعلق نہیں‘ کسی بھی کارروائی کو ایران سے منسوب کرنا بڑی غلط فہمی ہے :ایرانی فوجی عہدیدار
واشنگٹن(آئی این پی )امریکا نے سعودی افواج کیساتھ ملکر عراق میں ایران نواز گروہوں پرحملے کئے جس کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوگئے جس کی تصدیق بھی کردی گئی۔سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اس نے سعودی عرب کی افواج کے ساتھ مل کر عراق میں ایران نواز گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔سینٹ کام کا دعوی ہے کہ ان ایران نواز گروہوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ہدایات پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا‘سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ کارروائی حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مل کر کی گئی۔وزارت کے مطابق جوابی کارروائی بین الاقوامی قانون کے تحت حاصل حقِ دفاع کی بنیاد پر کی گئی۔سعودی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ سعودی عرب مزید کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم اگر مستقبل میں اس پر مزید حملے کیے گئے تو وہ اپنی خود مختاری، شہریوں اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گا‘دریں اثناء سعودی مشرقی علاقے میں تیل تنصیبات پر ڈرون حملہ ناکام بنا دیا۔ عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی وزارت دفاع نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ عراق سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا، کارروائی میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔)امریکی فوج کی مرکزی کمان(سینٹکام) ی جانب سے مشرق وسطی میں امریکی اڈوں پر داغے گئے ایرانی میزائل تباہ کیے جانے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان جاری کر کے ان حملوں کی تصدیق کر دی ‘یران نے سعودی عرب پر میزائلوں حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کے مطابق ایران کے ایک فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران سعودی عرب میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے دیگر ممالک سے داغے گئے میزائلوں یا راکٹوں سے کسی بھی تعلق کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عہدیدار نے کہا کہ خطے میں امریکی مفادات کے خلاف ہونے والی کسی بھی کارروائی کو ایران سے منسوب کرنا بڑی غلط فہمی ہے۔