قاہرہ / غزہ: اسرائیلی زمینی و فضائی حملوں میں بدھ کے روز کم از کم 60 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں اکثریت ان افراد کی تھی جو امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ تنظیم غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے امدادی مراکز کے قریب خوراک لینے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
فلسطینی وزارت صحت اور شفا و القدس اسپتال کے مطابق 25 فلسطینی اس وقت شہید ہوئے جب وہ غزہ کے وسطی علاقے نیٹزاریم میں GHF مرکز کے قریب موجود تھے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد خوراک کی تلاش میں تھے۔اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان افراد پر "وارننگ فائر" کیا گیا کیونکہ وہ ممکنہ خطرہ تھے۔ تاہم، فلسطینی حلقوں نے اسے غیر مسلح شہریوں پر دانستہ فائرنگ قرار دیا ہے۔مزید ہلاکتیں جنوبی غزہ کے علاقے رافح میں ہوئیں، جہاں 14 فلسطینی ایک دوسرے امدادی مرکز کے قریب گولیوں کی زد میں آ کر شہید ہو گئے۔ یہ واقعہ ناصر اسپتال کے حکام نے رپورٹ کیا۔GHF نے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی حکام سے رابطے میں ہیں اور راہداریوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک 1.6 کروڑ کھانے کے پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ امدادی مراکز سے راشن لینے کی کوشش میں اب تک 163 افراد شہید اور 1,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ GHF کے ذریعے امداد کی فراہمی کا حصہ نہیں بنیں گے کیونکہ اس طریقہ کار کو انسانی امداد کے عالمی اصولوں کے منافی قرار دیا گیا ہے۔دوسری جانب، فرانسیسی طبی امدادی تنظیم Medecins du Monde نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی ڈرون حملے میں ان کے غزہ دفتر کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 8 افراد شہید ہو گئے، تاہم عملہ محفوظ رہا۔ تنظیم کے مطابق ان کے دفتر کو "ڈی کنفلکٹڈ" یعنی محفوظ قرار دیا گیا تھا اور اس کی اطلاع اسرائیلی فوج کو پہلے سے دی گئی تھی۔