اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ پر ظلم و بربریت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
بدھ کی صبح سے شروع ہونے والے تازہ فضائی اور زمینی حملوں میں مزید 78 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین، بچے اور بے گھر افراد بھی شامل ہیں۔
امداد کے منتظر افراد کو بھی نہیں بخشا گیا:
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق، 14 بے گھر فلسطینی ان افراد میں شامل تھے جو امدادی اشیاء کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے تھے، جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔غزہ کے طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ وسطی غزہ میں ایک امدادی مرکز کے قریب اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ سے درجنوں شہری جاں بحق ہوئے۔
جاری ظلم کا اعداد و شمار:
غزہ کی مقامی حکومت کے مطابق، مئی 2025 سے اب تک اسرائیلی فورسز کی جانب سے امدادی مراکز پر کیے گئے حملوں میں 500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
ان میں بڑی تعداد ان شہریوں کی ہے جو کھانے، پانی، اور طبی امداد کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
خان یونس میں حماس کی جوابی کارروائی:
دوسری جانب، جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں حماس کی مزاحمتی کارروائی کے نتیجے میں ایک اسرائیلی بکتر بند گاڑی کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا گیا۔کارروائی میں 7 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے اس واقعے پر کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا گیا۔
انسانی بحران سنگین صورت اختیار کر گیا:
غزہ میں جاری بمباری اور ناکہ بندی کے باعث اشیائے خورونوش، ادویات اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بارہا فوری جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کا مطالبہ کر چکے ہیں، تاہم اسرائیلی جارحیت میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
عالمی برادری کی خاموشی پر تنقید:
انسانی حقوق کے کارکنان اور کئی مسلم ممالک کی حکومتیں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی خاموشی پر شدید تنقید کر رہے ہیں، اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری مداخلت کے ذریعے نہتے فلسطینیوں کی جانیں بچائی جائیں۔
نتیجہ:
غزہ میں حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید خطرناک اور انسانی المیے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقدامات نہ کیے گئے تو مزید معصوم جانوں کے ضیاع کا خطرہ موجود ہے۔