نارتھ ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب واٹر ٹینکر سے پیش آنے والے حادثے میں دو نوجوانوں کی ہلاکت سے متعلق ڈی آئی جی ٹریفک کی قائم کردہ تحقیقاتی ٹیم "کے راٹ" نے اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
رپورٹ میں حادثے کی بنیادی وجہ موٹر سائیکل سواروں کی تیز رفتاری اور بے قابو ہونا قرار دیا گیا ہے۔
حادثے کی تفصیل:
واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آیا۔جاں بحق ہونے والے نوجوانوں کی شناخت 20 سالہ زبیر اور 18 سالہ ایان کے نام سے ہوئی۔دونوں نوجوان موٹر سائیکل پر تیز رفتاری سے آرہے تھے کہ اچانک ایک سفید کار نے بائیں طرف مڑنے کے لیے بریک لگائی۔اوور اسپیڈنگ کے باعث موٹر سائیکل بے قابو ہوکر گر گئی اور پیچھے سے آنے والا واٹر ٹینکر دونوں نوجوانوں کو کچلتا ہوا گزر گیا۔موٹر سائیکل کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ دونوں نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال منتقلی کے دوران جاں بحق ہو گئے۔
واٹر ٹینکر ڈرائیور گرفتار:
واقعے کے بعد واٹر ٹینکر ڈرائیور کو گرفتار کرکے پاپوش نگر تھانے کے حوالے کر دیا گیا۔
شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج:
ٹیم "کے راٹ" نے جائے حادثہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کی۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ موٹر سائیکل سوار نوجوان ہیلمٹ بھی استعمال نہیں کر رہے تھے۔
یوٹرن کی غیر موجودگی ایک بڑا مسئلہ:
حادثے کے مقام پر باضابطہ یوٹرن نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔شہری خلاف ضابطہ یوٹرن لے کر ٹریفک میں رکاوٹ اور حادثات کا باعث بن رہے ہیں۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ موقع پر باقاعدہ یوٹرن قائم کیا جائے تاکہ ایسے سانحات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
حکام سے اپیل:
تحقیقاتی رپورٹ میں انتظامیہ سے سڑک پر بہتری اور ٹریفک پلاننگ کو بہتر بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ:"شہریوں کی جان بچانے کے لیے سڑکوں پر حفاظتی اقدامات، مناسب یوٹرن اور ٹریفک سائنز ناگزیر ہیں۔"یہ حادثہ ایک بار پھر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، تیز رفتاری اور انفراسٹرکچر کی کمی کے سنگین نتائج کی یاد دہانی ہے۔