امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل ایران پر کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکام نے اس ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع امریکا کو دے دی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد امریکا نے مشرق وسطیٰ سے اپنے سفارتکاروں اور فوجی اہلکاروں کو واپس بلانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
اسرائیل کا ممکنہ حملہ اور امریکی ردعمل:
اسرائیلی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران کے اندر ایک بڑے فوجی آپریشن کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ایرانی جوہری سرگرمیوں اور علاقائی مداخلت کو حملے کی ممکنہ وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ میں تعینات فوجی اہلکاروں کے خاندانوں کو رضاکارانہ انخلا کی اجازت دے دی ہے۔
ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی:
امریکی انٹیلیجنس حکام کے مطابق:"ایران اسرائیلی حملے کے ردعمل میں عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کر سکتا ہے۔"
عراق، بحرین، کویت سے امریکی سفارتی اور عسکری عملے کی واپسی جاری
امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ چھوڑنے کی سفری ایڈوائزری جاری کر دی گئی
کشیدگی کی علامات:
سینیٹ کام کمانڈر جنرل مائیکل کوریلا نے مشرق وسطیٰ کی بریفنگ ملتوی کر دی
ایران نے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت کا دعویٰ کیا ہے
ایرانی وزیر دفاع کا سخت ردعمل:
"اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم کئی گنا زیادہ نقصان پہنچائیں گے۔"
پس منظر:
ایران اور امریکا کے درمیان یورینیم افزودگی کے معاملے پر پہلے ہی شدید سفارتی کشیدگی جاری ہے، جس کے تناظر میں جوہری معاہدے کے لیے چھٹا دورِ مذاکرات اتوار کو مسقط میں متوقع ہے۔
خطے میں خطرناک صورتحال:
اسرائیل، ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کو کسی بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر حملہ ہوا تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے، جس سے تیل کی قیمتیں، عالمی مارکیٹس اور سفارتی توازن بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔