مشرق وسطیٰ میں امریکا و اسرائیل اور ایران کی جنگ 27 ویں روز میں شدت اختیار کر گئی

مشرق وسطیٰ میں امریکا و اسرائیل اور ایران کی جنگ 27 ویں روز میں شدت اختیار کر گئی

مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ اب 27 ویں روز میں داخل ہو گئی ہے اور صورتحال دن بہ دن پیچیدہ تر ہوتی جا رہی ہے۔

مختلف عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں کی تعداد اور شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ سفارتی سطح پر بھی متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کے اقدامات
امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں، خصوصاً اصفہان میں بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں، اور جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم ایران نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
ایران کا ردعمل
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا فی الحال کسی مذاکرات کا ارادہ نہیں ہے۔ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جنہیں بعض مقامات پر ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ کچھ مقامات پر نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے کسی جزیرے پر قبضے کی کوشش کی گئی تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔
خلیجی ممالک اور خطے کی صورتحال
امارات، سعودی عرب اور بحرین نے متعدد حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔کویت میں مبینہ طور پر حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا گیا، جن پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں۔
عالمی اقتصادی اثرات
تیل کی عالمی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور خوراک کی سپلائی بھی متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے اسے سفارتی برتری دی ہے اور کسی ممکنہ معاہدے کی شرائط پر اثر ڈالنے کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔