مشرق وسطیٰ کی کشیدگی: برطانیہ نے شہریوں کے بڑے پیمانے پر انخلا کی تیاری شروع کر دی

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی: برطانیہ نے شہریوں کے بڑے پیمانے پر انخلا کی تیاری شروع کر دی

مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے بڑھنے کے بعد برطانوی حکومت نے اپنی شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

 دفترِ خارجہ نے خطے سے ہزاروں برطانوی شہریوں کے ممکنہ انخلا کے لیے منصوبے تیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔اب تک 76 ہزار برطانوی شہری نے متاثرہ علاقوں میں اپنی موجودگی رجسٹر کروائی ہے، جن میں زیادہ تر متحدہ عرب امارات، خاص طور پر دبئی میں ہیں، جو فضائی حدود بند ہونے کے باعث وطن واپس نہیں آ پا رہے۔دفترِ خارجہ نے ایران، اسرائیل، اور فلسطین کے لیے ہر قسم کے سفر سے گریز کی ہدایت دی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین کے لیے غیر ضروری سفر سے روک دیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں موجود برطانوی سفیر نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی ہے، اور اردن، عمان، شام، لبنان، یمن، عراق میں موجود شہریوں کو احتیاط برتنے کی تاکید کی گئی ہے۔یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے متحرک ہے اور خطے میں ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔