میانمار میں فوجی فضائی حملہ، عبادت گاہ میں پناہ لینے والے بچوں اور خواتین سمیت متعدد افراد جاں بحق

میانمار میں فوجی فضائی حملہ، عبادت گاہ میں پناہ لینے والے بچوں اور خواتین سمیت متعدد افراد جاں بحق

میانمار کے علاقے ساگانگ میں فوجی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک بدھ مت عبادت گاہ مکمل طور پر تباہ ہوگئی، جہاں زلزلہ متاثرین، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے، پناہ لیے ہوئے تھے۔

حملے کے نتیجے میں متعدد قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔عینی شاہدین اور مقامی رہائشیوں کے مطابق، فضائی حملہ اس وقت کیا گیا جب لوگ بدھ مذہب کی ایک عبادت گاہ کے مرکزی ہال میں سورہے تھے۔ یہ افراد گزشتہ مارچ میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد اپنے گھروں سے محروم ہو چکے تھے اور محفوظ پناہ کی تلاش میں اس عبادت گاہ میں مقیم تھے۔

عبادت گاہ بھی محفوظ نہ رہی
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ:"ہمیں یقین تھا کہ عبادت گاہ ایک مقدس مقام ہے اور فوج یا مسلح گروہ یہاں حملہ نہیں کریں گے، لیکن ہمارا یہ بھروسہ بھی ٹوٹ گیا۔"بتایا جاتا ہے کہ یہ عبادت گاہ ماضی میں مراقبہ اور دنیاوی جھمیلوں سے دوری کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

فوجی حکومت کا موقف اور لاعلمی
فوجی حکومت، جسے ’جنتا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کے ترجمان زو من تون نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا:"ہمیں اس واقعے کے بارے میں ابھی مکمل معلومات حاصل نہیں ہوئیں، تاہم اگر تحقیقات میں کسی قسم کی غفلت یا غیرقانونی کارروائی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی۔"
پس منظر: فوجی بغاوت اور جاری تنازع
میانمار میں 2021 میں فوجی بغاوت کے ذریعے جمہوری حکومت کو معزول کر دیا گیا تھا۔ اس اقدام کے بعد سے ملک کے کئی حصوں میں عسکری مزاحمت اور حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد جاری ہے۔فوجی حکومت ان مسلح گروہوں کو علیحدگی پسند قرار دیتی ہے اور ان کے خلاف شدید فضائی کارروائیاں کرتی ہے، جن میں عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی معمول بن چکی ہیں۔

ماضی کا سانحہ: اسکول پر حملہ
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ مئی 2025 میں بھی میانمار کی فوج نے علیحدگی پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک اسکول پر فضائی حملہ کیا تھا، جس میں 20 طلبا اور 2 اساتذہ جاں بحق ہو گئے تھے۔

عالمی برادری کی خاموشی پر سوالات
ان حملوں میں مسلسل عام شہریوں کی ہلاکت پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ بھی تشویش کا اظہار کر چکی ہیں، تاہم اب تک کوئی مؤثر عالمی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا، جس پر مقامی اور عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔