میانمار کی فوج نے ریاست رخائن کے شہر مروک او کے ایک اسپتال پر فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور 68 زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ حملہ مغربی ریاست رخائن کے حساس علاقے میں رات کے وقت کیا گیا، جب اسپتال میں معمول کا علاج جاری تھا۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق، حملے کے نتیجے میں کئی افراد مارے گئے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، کیونکہ امدادی ٹیمیں ریسکیو اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کر رہی ہیں۔حملے کے پیچھے فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی آپریشنز کے دوران ہوئی اور ممکنہ طور پر عسکریت پسندوں کے زیر استعمال اسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، مقامی افراد اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بے گناہ شہریوں پر حملہ ہے، جس سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
دوسری طرف، میانمار کی حکومت نے 28 دسمبر کو عام انتخابات کا اعلان کیا ہے، جس کے تناظر میں علاقے میں امن و امان کے حالات خاصے کشیدہ ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور میانمار کی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور جنگی جرائم سے باز رہے۔یہ واقعہ میانمار میں جاری بحران اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے، جہاں اقلیتوں اور شہریوں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔