خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملہ، 4 بچوں اور 2 خواتین سمیت 8 فلسطینی شہید

خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملہ، 4 بچوں اور 2 خواتین سمیت 8 فلسطینی شہید

غزہ: اسرائیلی جنگی طیاروں نے خان یونس کے علاقے میں بے گھر افراد کے کیمپ پر فضائی حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم آٹھ فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں چار کمسن بچے اور دو خواتین شامل ہیں۔

حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جن میں ایک شیر خوار بچہ بھی شامل ہے۔غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود بصّال کے مطابق، یہ حملہ رات گئے خان یونس میں کیے گئے، جہاں تین خیموں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ ان خیموں میں وہ فلسطینی مقیم تھے جو اسرائیلی بمباری سے بچنے کے لیے اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے تھے۔شہید بچوں کی عمریں دو سے پانچ سال کے درمیان تھیں، جبکہ شہید خواتین کی عمریں بھی درمیانی بتائی جا رہی ہیں۔ حملے کے بعد کی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ امدادی کارکن اندھیرے میں ملبے سے لاشیں نکال کر ایمبولینسز میں منتقل کر رہے تھے۔ ایک بچے کی لاش سفید پلاسٹک میں لپٹی ہوئی تھی، جبکہ دوسرا کمبل میں لپٹا ہوا تھا۔

ادھر اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے مشرقی حصے میں پانچ گھروں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا، جبکہ خان یونس کے مشرقی علاقے عبّاسہ پر توپ خانے سے شدید گولہ باری کی گئی۔ ان کارروائیوں میں فی الحال مزید جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ان مسلسل حملوں نے انسانی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بارہا اسرائیل سے شہریوں کو نشانہ بنانے سے باز رہنے کی اپیل کر چکے ہیں، تاہم صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔