اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت کے بعد اب ان کے مالک مکان کا مؤقف بھی منظرِ عام پر آ گیا ہے۔
مالک مکان کے مطابق، فلیٹ کا کرایہ معاہدہ 2019 میں ختم ہو چکا تھا، لیکن حمیرا نہ صرف فلیٹ خالی کرنے سے انکاری تھیں بلکہ کئی قانونی نوٹسز کے باوجود جواب بھی نہیں دے رہی تھیں۔
کرایہ داری اور قانونی تنازعہ:
مالک مکان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ:
2018 میں حمیرا اصغر کو 40 ہزار روپے ماہانہ پر فلیٹ کرائے پر دیا گیا تھا۔
2019 میں کرایہ داری معاہدہ ختم ہو گیا، مگر اداکارہ نے معاہدے کی تجدید سے انکار کر دیا۔
2021 میں سی بی سی (کینٹ بورڈ) میں مقدمہ دائر کیا گیا جب وہ فلیٹ خالی کرنے سے انکاری رہیں۔
رویے سے متعلق شکایات:
مالک مکان نے الزام لگایا کہ:“پڑوسیوں نے حمیرا اصغر کے خلاف شکایات کیں، خاص طور پر روف ٹاپ کے دروازے کے جھگڑوں کے حوالے سے۔ وہ اکیلی رہتی تھیں، اور ان کا رویہ اکثر تلخ ہوتا تھا۔”انہوں نے مزید کہا کہ:لاہور اور کراچی دونوں پتوں پر حمیرا کو قانونی نوٹسز بھیجے گئے، لیکن لاہور سے جواب آیا کہ وہاں کوئی حمیرا نہیں رہتی۔حمیرا نے نہ عدالت میں پیشی کی، نہ ہی کوئی تحریری جواب جمع کروایا۔
عدالت کے فیصلے اور عمل درآمد:
ستمبر 2023 میں سی بی سی کورٹ نے فلیٹ خالی کرنے کا حکم دیا۔مزید نوٹسز جاری ہوئے لیکن اداکارہ نے پھر بھی کوئی ردعمل نہیں دیا۔مئی 2024 میں آخری کرایہ موصول ہوا، جس کے بعد مزید ادائیگی نہیں کی گئی۔آخرکار سول کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ فلیٹ کا قبضہ واپس لیا جائے۔
پسِ منظر:
حمیرا اصغر کی لاش جولائی 2025 میں کراچی کے اتحاد کمرشل فلیٹ سے ملی تھی، جو 8 سے 10 ماہ پرانی بتائی گئی۔ یہ لاش اس وقت برآمد ہوئی جب عدالت کے حکم پر عدالتی بیلف نے فلیٹ کا دروازہ توڑ کر قبضہ واپس لیا۔