اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس میں اہم پیش رفت، زہر دیے جانے کے شواہد نہ ملے

اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس میں اہم پیش رفت، زہر دیے جانے کے شواہد نہ ملے

کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے ملنے والی معروف ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش سے لیے گئے نمونوں کی کیمیکل ایگزامنیشن رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس کے مطابق انہیں زہر دیے جانے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

جامعہ کراچی کی رپورٹ میں اہم انکشاف
پولیس حکام کے مطابق، حمیرا اصغر کی لاش سے حاصل کیے گئے 9 مختلف سیمپلز کو جامعہ کراچی کی فارنزک لیبارٹری بھیجا گیا تھا، جہاں ان پر کیمیکل تجزیہ کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اداکارہ کو کسی قسم کا زہریلا مادہ نہیں دیا گیا، اور موت کی کوئی واضح زہریلی وجہ ثابت نہیں ہو سکی۔پولیس کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ کا باضابطہ اعلان آج کیا جائے گا، جس کے بعد کیس کی قانونی حیثیت مزید واضح ہوگی۔

لاش 9 ماہ پرانی، کیس نے معمہ اختیار کیا
واضح رہے کہ رواں سال کراچی کے علاقے خیابان اتحاد، ڈیفنس فیز 6 میں ایک فلیٹ سے اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ملی تھی، جو ابتدائی میڈیکل معائنے کے مطابق تقریباً 9 ماہ پرانی تھی۔
یہ انکشاف نہ صرف میڈیا بلکہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کے لیے بھی حیران کن تھا، کیونکہ اتنے طویل عرصے تک لاش کا بے خبر رہنا اور مکمل خاموشی کیس کو ایک معمہ بنا بیٹھا۔

تحقیقات جاری، کئی سوالات برقرار
اداکارہ کی موت کے بعد پولیس نے فلیٹ کی ملکیت، آمد و رفت کے ریکارڈ، اور ان کے سوشل و پروفیشنل تعلقات کا جائزہ لیا۔ تاہم اب تک یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ:

وہ فلیٹ میں کب اور کیسے ہلاک ہوئیں؟
ان کے اہلِ خانہ یا دوستوں نے 9 ماہ تک گمشدگی کی رپورٹ کیوں درج نہ کرائی؟
کیا یہ طبعی موت تھی یا کسی ذہنی دباؤ کا نتیجہ؟