مزدورآصف کی 3ماہ قبل شادی ہوئی ،غلام سعید کی میت آنے پروالد چل بسے
کوئٹہ ،(خصوصی رپورٹ)کوئٹہ سے پنجاب آنیوالی بسوں سے اتار کر بے دردی سے شہید کئے جانے والے 9افراد کی میتیں ضابطے کی کارروائی اور شناخت کے بعد ان کے آبائی علاقوں میں بھجوا دی گئیں ،جہاں ان کو سپردخاک کردیاگیا۔حکام کے مطابق لورالائی کے قریب ضلع ڑوب میں نامعلوم مسلح افراد نے بسوں کو روک کر شناخت کے بعد ان افراد کو گولیاں مار کر شہید کیا۔لاشیں بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے رکھنی کے ایک سرکاری ہسپتال منتقل کی گئی تھیں جہاں سے آبائی علاقوں میں بھجوائی گئیں، کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس محمد اسد چانڈیہ نے بلوچستان ا ور پنجاب کے سرحدی مقام پر جا کر میتوں کو وصول کیا اور بلوچ لیوی لائنز میں ریونیو افسروں کے ہمراہ آبائی علاقوں کیلئے روانہ کیا۔شہیدہونیوالے محمدآصف کا تعلق مظفرگڑھ، صابرحسین کا تعلق کامونکی ، محمد بلاول کا تعلق گجرات، محمد بلاول کا تعلق اٹک،شیخ ماجد کا تعلق فیصل آباد، غلام سعید کا تعلق میاں چنوں، محمد جنید کا تعلق لاہور، دو بھائیوں عثمان اور جابر کا تعلق دنیاپورسے بتایاگیا ہے۔مظفر گڑھ کے مزدورمحمد آصف کی صرف 3 ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی،اس نے ماں،باپ،بیوہ،3 بھائیوں اور 5 بہنوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ میاں چنوں کے 72پندرہ ایل کا رہائشی غلام سعید والدکی تیمارداری کیلئے گھر آرہاتھا ،اس کے پسماندگان میں چار بیٹے، دو بیٹیاں اور بیوہ شامل ہیں۔غلام سعید کی میت گھرپہنچنے کے بعد ان کے والد بھی چل بسے ،جن کی نماز جنازہ آج صبح 8بجے ادا کی جائے گی۔دنیاپورکے دوبھائی عثمان اورجابر والدکیجنازے میں شرکت کیلئے آرہے تھے۔تمام شہد ا کو ان کے آبائی علاقوں میں سپردخاک کردیاگیا،جنازوں میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اوراس موقع پرماحول سوگواررہا اور کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ڑوب کے سی ٹی ڈی تھانہ میں 9 مسافروں کے قتل کا مقدمہ ایس ایچ او کی مدعیت میں نامعلوم افرادکیخلاف درج کرلیا گیا،جس میں قتل، انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل ہیں۔