کراچی: 5 منزلہ عمارت گرگئی،9افراد جاں بحق‘12زخمی لاہور میں بھی 234 بوسیدہ عمارتیں خطرہ

لیاری بغدادی میں واقعہ پیش آیا‘ عمارت میں 6 خاندان رہائش پذیر تھے‘ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے  ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر  معطل

کراچی‘لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک‘زیڈ این این) کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں 5 منزلہ عمارت زمین بوس ہونے سے 9 افراد جاں بحق ہو گئے، متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ 12 زخمیوں کو ملبے کے نیچے سے نکال لیا گیا ہے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں 3 خواتین شامل ہیں جنہیں سول ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، عمارت کے ملبے تلے 25 سے 30 افراد دبے ہو سکتے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔دوسری طرف کراچی پولیس نے گرنے والی عمارت کے مالک کی تلاش شروع کر دی ہے، کراچی کے جناح ہسپتال اور سول ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے  عمارت میں 6 خاندان رہائش پذیر تھے اور ملبے تلے دبے مزید لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے،  گرنے والی عمارت سے ملحقہ 2 اور 7 منزلہ عمارتوں کو بھی خالی کروالیا گیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق عمارت میں کئی خاندان مقیم تھے اور گرنے سے قبل عمارت کی حالت خستہ تھی، شہر کے پرانے علاقے میں اب بھی کئی عمارتیں مخدوش حالت میں موجود ہیں۔وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے عمارت گرنے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ عمارت میں پھنسے تمام لوگوں کو جلد ریسکیو کیا جائے گا۔بعدازاں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کو معطل کر دیا گیا۔دریں اثناء لاہور شہر میں بوسیدہ اور خطرناک عمارتوں کی تعداد 234 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے درجنوں انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ 2023 سے جون 2025 تک ضلعی انتظامیہ اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے مشترکہ طور پر کارروائیاں کرتے ہوئے 177 سے زائد نوٹسز جاری کیے، جن میں کئی عمارتیں سیل اور درجنوں کو مکمل طور پر مسمار بھی کر دیا گیا۔محکمہ انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق ڈیٹا گنج بخش، شالامار، سمن آباد، راوی اور عزیز بھٹی زونز میں خطرناک عمارتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔