وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے ساتھ جیل میں طبی دہشت گردی کی۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ عبدالغفور انجم کی سرپرستی پنجاب کی جعلی حکومت کر رہی ہے اور بانی کی بینائی 15 فیصد تک پہنچنے کی رپورٹ اسی حکومت کی تیار کردہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عمران خان کے خلاف نفرت اور خون کے پیاسے عزائم کا ثبوت ہے۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ماڈل ٹاؤن، 9 مئی اور مریدکے میں جو کچھ ہوا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے سامنے انسانی جان کی کوئی حیثیت نہیں۔ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا کہ کیسز فوری سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں، ورنہ عدالتوں کو بند کرنا چاہیے۔
سہیل آفریدی نے ملک میں موجود بدترین حالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سسٹم صرف ایک شخص کو دبانے میں لگا ہے، جبکہ عوام پُرامن انداز میں اپنا حق استعمال کریں گی اور اگر خیبر پختونخوا کی عوام نکلیں تو وہاں کی پولیس انہیں نہیں روک سکے گی۔انہوں نے زور دیا کہ 16 فروری تک عمران خان کا معائنہ ہونا چاہیے اور عبدالغفور انجم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔