شہبازشریف اوروزیراعظم یو اے ای کا اقتصادی و سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر اتفاق‘ یہ متحدہ عرب امارات کی مثالی قیادت ہی ہے جس نے مختصر عرصے میں ملک کو بدل کر رکھ دیا :وزیراعظم

وزیراعظم‘آرمی چیف کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہےشہبازشریف

اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پائیدار امن صرف دو ریاستی حل سے ممکن ہے، سات دہائیوں کے دوران پاکستانی قوم کو بے شمار چینلنجز کا سامنا رہا، ہمارا اڑان پاکستان منصوبہ قومی اقتصادی تبدیلی کا منصوبہ ہے

نجی شعبہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں مواقع سے استفادہ کرے ،شمسی توانائی کے فروغ کیلئے ٹیکس استثنی، نیٹ میٹرنگ، کسٹم ڈیوٹی کے خاتمے کیلئے اقدام کر رہے ہیں: دبئی میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ سے خطاب 

دبئی (آئی این پی‘آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے  1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، غزہ میں نسل کشی کے دوران 50 ہزار فلسطینی شہید ہوئے، فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، سات دہائیوں کے دوران پاکستانی قوم کو بے شمار چینلنجز کا سامنا رہا، ہمارا اڑان پاکستان منصوبہ قومی اقتصادی تبدیلی کا منصوبہ ہے جو پاکستان کی معاشی ترقی اور معاشی نمو میں اضافے کا باعث بنے گا،نجی شعبہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں مواقع سے استفادہ کرے۔دبئی میں وزیراعظم شہباز شریف نے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمٹ انسانیت کے بہتر مستقبل کے لیے چیلنجز اور موقع پر اجتماعی غور و فکر کا موثر فورم ہے، سمٹ ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب غزہ تنازع کے تباہ کن اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا گزشتہ سات دہائیوں سے پاکستانی قوم کو بے شمار چیلنجز کا سامنا رہا، ایک سال میں معاشی استحکام آیا ہے، مہنگائی کی شرح کم ہو کر 2.4 فیصد تک آ چکی ہے، جو 9 سال کی کم ترین سطح ہے، اسی طرح بنیادی شرح سود 12 فیصد پر آگیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ توانائی و انفرااسٹرکچر، قومی اقتصادی ٹرانسفارمیشن کے بنیادی جزو ہیں، جوہری، ہوا، پانی اور شمسی توانائی کے منصوبں کو فروغ دے رہے ہیں، پن بجلی منصوبوں سے مزید 13 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش میں اضافہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کے فروغ کے لیے ٹیکس استثنی، نیٹ میٹرنگ، کسٹم ڈیوٹی کے خاتمے کے لیے اقدام کر رہے ہیں، مزید کہنا تھا کہ نجی شعبہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں مواقع سے استفادہ کرے‘دریں اثناء وزیراعظز محمد شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے صدر کے درمیان ابو ظہبی میں ملاقات ہوئی جس میں اقتصادی، تجارتی اور ترقی و دیگر شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین موجود اشتراک و تعاون پر گفتگو کی گئی۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے استقبال کیا۔ ملاقات میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران، وزیر اعظم شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون کے مزید فروغ پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی مفادات کی تکمیل کے لائحہ عمل و تعلقات کی مضبوطی پر گفتگو کی۔ملاقات میں اقتصادی، تجارتی اور ترقی و دیگر شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین موجود اشتراک و تعاون پر گفتگو کی گئی جو پائیدار اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے دونوں ممالک کے ویژن سے ہم آہنگ ہیں۔ملاقات کے دوران گورننس میں عالمی رجحانات کی نشاندہی اور عالمی تبدیلیوں کے چیلینجز سے نمٹنے کیلئے حکومتی تیاریوں کی قابل عمل حکمت عملی پر ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی جبکہ ترقی کی رفتار میں اضافے اور سب کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے ان تبدیلیوں سے استفادہ حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا‘علاوہ ازیں  شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے اور اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کیلئے اعلیٰ سطحی سرگرمیاں جاری رکھنے پر اتفاق کیاہے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ متحدہ عرب امارات کی مثالی قیادت ہی ہے جس نے مختصر عرصے میں ملک کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیر اعظم اور دبئی کے فرمانروا عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی دبئی میں ملاقات ہوئی۔