پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے طرزِ سیاست پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا "انقلاب فروم ہوم" مہینے میں ایک بار انگڑائی لیتا ہے، اور جیسے ہی ریاست اپنی رٹ قائم کرتی ہے، یہ انقلاب دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی غیر سیاسی سوچ اور فیصلوں نے ان کی جماعت کو تقسیم کر دیا ہے۔ ان کے مطابق بشریٰ بی بی نے پہلا انقلاب لیڈ کیا، لیکن وہ بھی گلے پڑ گیا۔ انہوں نے طنزیہ کہا کہ جو 26 نومبر کو "جھانسی کی رانی" بن رہی تھیں، آج "منہ چھپائی" کر رہی ہیں۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی نے 23 نومبر کو قوم سے خطاب کیا تھا، لیکن آج وہ مکمل خاموش ہیں۔ وہ جو 24 اور 26 نومبر کو انقلابی خطابات کر رہی تھیں، اب وہ اپنے انقلابی خیالات پشاور میں چھوڑ آئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بشریٰ بیگم، جو موروثی سیاست کے خلاف تھیں، اپنی بہن اور ترجمان کے ذریعے ساری پارٹی کو چارج شیٹ کرنے کے بعد خاموش ہیں۔ انہوں نے طنزیہ سوال اٹھایا کہ بشریٰ بی بی قوم کو بتائیں کہ 26 نومبر کو ڈی چوک سے دوڑ کیوں لگائی اور آج صحافیوں کے سوالوں پر کیوں خاموش ہیں۔