سندھ میں ہر محکمہ بھتہ لیتا ہے، پیپلز پارٹی کی حکومت ناکام ہے:علی خورشیدی

سندھ میں ہر محکمہ بھتہ لیتا ہے، پیپلز پارٹی کی حکومت ناکام ہے:علی خورشیدی

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی قیادت پر شدید تنقید کی ہے۔

 کراچی میں ایم کیو ایم کے اراکینِ اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ میں تمام محکمے بھتہ لیتے ہیں اور یہ بھتہ وزیروں تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "سندھ کا ہر محکمہ بھتہ لیتا ہے، اور یہ رقم براہ راست وزیروں تک پہنچتی ہے۔"علی خورشیدی نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت 17 سال سے قائم ہے، مگر اس دوران صرف کرپشن اور نااہلی ہی دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں امن و امان کی حالت خراب ہے اور لیاری گینگ وار جیسے واقعات عوام کی یادوں میں تازہ ہیں۔ خورشیدی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کو قتل کیا جاتا تھا، اور سندھ حکومت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔انہوں نے پیپلز پارٹی کے ترجمانوں کی جانب سے ایم کیو ایم کی قیادت پر حملے کے حوالے سے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس بتانے کو کچھ نہیں ہے، اس لیے وہ ایم کیو ایم کی قیادت پر حملہ کر رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے 100 روپے کے 22 اسپیشل اسسٹنٹس اور ترجمانوں نے ایم کیو ایم کی قیادت پر تنقید کی۔ خورشیدی کا کہنا تھا کہ جب حکومت اچھی کارکردگی دکھاتی تو وہ اسے سراہتے، لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود مسائل جوں کے توں ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کی فلاح کے لیے کوئی کام نہیں ہو رہا۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کوئی بہتری نہیں آئی، اور سندھ حکومت عوام کی مشکلات کا حل پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ خورشیدی نے کہا کہ "اگر پیپلز پارٹی اچھا کام کرے گی تو ہم ساتھ دیں گے، مگر مسائل حل نہیں ہو رہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے ایم کیو ایم احتجاج کرے گی۔

علی خورشیدی نے بلاول بھٹو کے بارے میں کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے گھر پانی نہیں آتا، لیکن اب تک پانی کی فراہمی بحال نہیں کی جا سکی۔ خورشیدی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اتنی نااہل ہے کہ اپنے چیئرمین کے گھر کی بنیادی ضرورت کو بھی پورا نہیں کر سکی۔انہوں نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ بلاول بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کا دروازہ ایم کیو ایم سے گزر کر آئے گا، کیونکہ پیپلز پارٹی میں جو کچھ چل رہا ہے وہ ایم کیو ایم کے لوگوں کو معلوم ہے۔علی خورشیدی نے لیاری گینگ وار کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں، لیکن وہ ایم کیو ایم کے ہی ہیں۔

 انہوں نے اسلحہ لائسنس کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اسلحہ لائسنس دینے کا ذمہ دار کون ہے، یہ سب کو معلوم ہے۔خورشیدی کی اس پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں نے بھی پیپلز پارٹی کی حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی کے حکومتی اراکین کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔