نہر سوئز پر مصر فیس کیوں لیتا ہے؟ آبنائے ہرمز پر ایران کی فیس کا مطالبہ متنازع کیوں؟

نہر سوئز پر مصر فیس کیوں لیتا ہے؟ آبنائے ہرمز پر ایران کی فیس کا مطالبہ متنازع کیوں؟

بین الاقوامی سمندری قانون کے تحت قدرتی آبی گزرگاہوں اور انسان کی بنائی ہوئی نہروں کے قواعد مختلف ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مصر نہر سوئز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کر سکتا ہے، لیکن ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ قانونی طور پر متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحرِ ہند سے ملانے والی دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت محدود کر دی تھی، جس کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کے بحران کے خدشات پیدا ہوئے۔

ایران کا مؤقف
ایران کا کہنا ہے کہ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس لینے کا اختیار دیا جائے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی تجویز ہے کہ فی بیرل تیل تقریباً ایک ڈالر فیس وصول کی جائے۔ بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادائیگی کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھی ممکن ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟
اقوام متحدہ کے کنونشن UNCLOS (United Nations Convention on the Law of the Sea) کے مطابق:قدرتی آبناؤں سے گزرنے والے جہازوں کو آزادانہ گزرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔کوئی ملک صرف گزرنے کی اجازت دینے کے بدلے فیس نہیں لے سکتا۔البتہ مخصوص خدمات جیسے پائلٹنگ، نیویگیشن یا ٹگ بوٹ سروس کے عوض محدود فیس لی جا سکتی ہے۔اسی وجہ سے ماہرین کے مطابق ایران کا مطالبہ قانونی طور پر کمزور سمجھا جا رہا ہے۔

نہر سوئز اور پاناما کا فرق
نہر سوئز اور نہر پاناما قدرتی گزرگاہیں نہیں بلکہ انسان کی بنائی ہوئی نہریں ہیں۔ اسی لیے مصر اور پاناما ان نہروں سے گزرنے والے جہازوں سے قانونی طور پر فیس وصول کرتے ہیں۔

عالمی ردِعمل
ایران کے اس مطالبے پر مختلف ممالک نے تحفظات ظاہر کیے ہیں:متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کے کنٹرول میں نہیں دی جا سکتی۔قطر نے آزادانہ سمندری گزرگاہ کو عالمی تجارت کے لیے ضروری قرار دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تیل کی آزاد ترسیل کو کسی بھی امن معاہدے کی بنیادی شرط قرار دیا ہے۔
ممکنہ اثرات
جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت سست روی کا شکار رہ سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ایران اپنے مطالبے پر قائم رہتا ہے تو:

عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے
فوجی طاقت کے ذریعے راستہ کھلوانا پیچیدہ اور طویل ہو سکتا ہے
چین، جو اس راستے سے سب سے زیادہ تیل درآمد کرتا ہے، اس بحران میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
قانونی طور پر ایران کا مؤقف کمزور سمجھا جاتا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کی جغرافیائی پوزیشن عالمی طاقتوں کے لیے ایک بڑا تزویراتی چیلنج بنی ہوئی ہے۔