پاکستان کے معروف اداکار اور پروڈیوسر ہمایوں سعید نے کراچی میں ہونے والی 17ویں انٹرنیشنل اردو کانفرنس کے دوران انڈسٹری میں اپنی خدمات اور فلموں کے حوالے سے بات چیت کی۔
انہوں نے اپنی مشہور فلموں "پنجاب نہیں جاؤں گی"، "جوانی پھر نہیں آنی" اور "لندن نہیں جاؤں گا" پر گفتگو کی اور بتایا کہ وہ اپنی ہم عمر اداکاراؤں کے ساتھ "جوانی پھر نہیں آنی" کا تیسرا حصہ بنا سکتے ہیں۔ہمایوں سعید نے کہا کہ وہ مرد یا خواتین اداکاروں کے لیے لیڈنگ کرداروں کو عمر سے نہیں جوڑتے۔ ان کے نزدیک عمر کوئی رکاوٹ نہیں اور مرد یا خواتین دونوں کسی بھی عمر میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ اپنی ہم عمر اداکاراؤں جیسے ثانیہ سعید، سعدیہ امام یا نادیہ جمیل کے ساتھ دوبارہ "جوانی پھر نہیں آنی" جیسی فلم بنا سکتے ہیں تو ہمایوں سعید نے کہا کہ یہ ممکن ہے اور وہ اس خیال کو حقیقت میں بدلنے پر غور کر رہے ہیں۔
ہمایوں سعید کے اس بیان نے پاکستانی انڈسٹری میں مردوں اور خواتین کے کرداروں کے حوالے سے ایک اہم بحث کا آغاز کیا، جس میں یہ واضح ہوا کہ مرد اداکاروں کو عمر کے لحاظ سے مرکزی کرداروں میں کم ہی پابندیاں ہیں جبکہ خواتین اداکاراؤں کے لیے عمر کی حد اکثر مرکزی کرداروں کی دستیابی کو محدود کر دیتی ہے۔