شیشپر گلیشیئر پگھلنے سے فصلیں اور مکان تباہ‘ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ‘ سماہنی آزاد کشمیر کے برساتی نالے میں ڈوب کر دو کمسن بھائی دم توڑ گئے
آئندہ 72 گھنٹوں میں بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کاامکان ‘دریائے ستلج میں سیلاب کا خطرہ ہے:پی ڈی ایم اے
گلگت،مظفر آباد ‘لاہور(آئی این پی )گلگت بلتستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، دنیور نالہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 8 رضاکار ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے، شیشپر گلیشیئر بپھر گیا، سڑکیں، فصلیں اور زمینیں بہہ گئیں، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔پولیس کے مطابق مقامی رضاکار سیلاب سے متاثرہ واٹر چینل کی بحالی کا کام کر رہے تھے کہ ان پر مٹی کا تودہ آگرا۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق ہنزہ شیشپر گلیشیئر بپھرنے سے نالے میں سیلابی پانی کے بہا ئومیں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں سڑکیں،فصلیں اور زمینیں تباہ و برباد ہوگئی ہیں۔،ترجمان کے مطابق گلگت بلتستان میں سیلاب سے متصل آبادیوں کی زمینوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، قراقرم ہائی وے بھی متاثر ہوئی جبکہ شاہراہ ہنزہ ایک بار پھر بند ہوگئی۔دریں اثناء پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بدھ سے مون سون بارشوں کے اگلے سپیل کی پیشگوئی کرتے ہوئے فلڈ ایڈوائزری جاری کر دی۔دریں اثناء پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے ستلج اورملحقہ ندی نالوں میں سیلاب سے متعلق الرٹ جاری کردیا۔پی ڈی ایم اے پنجاب کاکہنا ہے آئندہ 72 گھنٹوں میں بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد دریائے ستلج میں گنڈاسنگھ کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے