جے ڈی وینس کا ایران جنگ سے نمٹنے میں امریکا کی ناکامیوں کا اعتراف

جے ڈی وینس کا ایران جنگ سے نمٹنے میں امریکا کی ناکامیوں کا اعتراف

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری جنگ سے نمٹنے کے طریقۂ کار میں متعدد غلطیوں اور بنیادی نوعیت کی ناکامیوں کا اعتراف کیا ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی تنصیبات کی سیکیورٹی، فوجیوں کی تعیناتی اور کم قیمت ڈرونز سے نمٹنے کے معاملے میں ایسی خامیاں سامنے آئیں جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔جے ڈی وینس نے امریکی نیوز چینل کے ایک خصوصی عوامی پروگرام میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے جنگ کے نتیجے میں ہونے والے جانی و معاشی نقصانات اور امریکی فوجی حکمتِ عملی سے متعلق امور پر گفتگو کی۔ ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو میدانِ جنگ میں درپیش بعض مشکلات کے باعث اپنے طریقۂ کار میں تبدیلیاں کرنا پڑی ہیں۔

فوجی تنصیبات کی سیکیورٹی میں خامیوں کا اعتراف
امریکی نائب صدر نے فوجی تنصیبات کی سیکیورٹی کے حوالے سے تسلیم کیا کہ بعض معاملات میں خامیاں موجود تھیں۔ ان کے مطابق، بعض اوقات اہم معلومات ان تک نہیں پہنچ پاتیں، جس سے فیصلہ سازی اور صورتِ حال کا مکمل جائزہ لینے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔وینس نے یقین دہانی کرائی کہ انتظامیہ ہر ناکامی کو سنجیدگی سے لے گی اور ان عوامل کا جائزہ لیا جائے گا جن کے باعث امریکی فوج کو نقصان یا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے طریقۂ کار نے فوجی حکمتِ عملی کی بعض کمزوریوں کو نمایاں کیا۔ ان کے مطابق، کچھ مقامات پر اہلکاروں کی تعیناتی کے فیصلوں پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی، کیونکہ بعد کے حالات سے اندازہ ہوا کہ ان فیصلوں میں بہتری لائی جاسکتی تھی۔

فوجیوں کی تعیناتی کے طریقۂ کار میں تبدیلیاں
جے ڈی وینس کے مطابق، بعض معاملات میں امریکی انتظامیہ کو احساس ہوا کہ فوجیوں کو جن مقامات پر تعینات کیا گیا تھا، وہ فیصلے درست نہیں تھے یا ان میں بہتری کی گنجائش موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان خامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ طریقۂ کار میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوجی قیادت کو اہلکاروں کے تحفظ، تنصیبات کی حفاظت اور خطرات کا درست اندازہ لگانے کے لیے اپنی حکمتِ عملی کا ازسرِنو جائزہ لینا پڑا ہے۔وینس نے واضح کیا کہ ہر ناکامی سے سبق سیکھنا ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسے حالات میں امریکی فوجیوں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جاسکے اور مزید جانی نقصان سے بچنے کے امکانات بڑھائے جاسکیں۔

کم قیمت ڈرونز امریکی فوج کے لیے بڑا چیلنج
امریکی نائب صدر نے کم قیمت ڈرونز سے پیدا ہونے والے خطرات پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق، جدید جنگ میں ایسے ڈرونز نسبتاً کم خرچ ہونے کے باوجود انتہائی مہلک ثابت ہوسکتے ہیں، جس کے باعث فوجی اہلکاروں اور تنصیبات کو محفوظ رکھنے کے لیے روایتی دفاعی طریقوں پر نظرثانی ضروری ہوگئی ہے۔وینس نے کہا کہ امریکی فوج نے ڈرون حملوں کے خطرے کو کم کرنے، اہلکاروں کو بہتر تحفظ دینے اور مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلیاں کی ہیں۔

امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد انتظامیہ سے جواب طلبی
رپورٹس کے مطابق، یہ گفتگو اس وقت اہم رخ اختیار کرگئی جب امریکی فوجی اہلکار کی ہلاکت پر ان کے شوہر نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ فوجی قیادت کی غلطیوں اور سیکیورٹی کی خامیوں پر جواب دہی کیسے یقینی بنائی جائے گی۔ان کی اہلیہ، ماسٹر سارجنٹ نکول امور، کویت میں ایرانی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوجیوں میں شامل تھیں۔ ان کے شوہر جوی امور نے کہا کہ ان کی اہلیہ کی موت سے پہلے بھی بعض مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی اور ان کا مطالبہ تھا کہ ان ناکامیوں کی تحقیقات کی جائیں۔وینس نے جواب میں کہا کہ بعض اوقات معلومات اعلیٰ حکام تک نہیں پہنچ پاتیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ان شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ کیا غلط ہوا اور آئندہ ایسے واقعات سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔

فیصلہ کن فتح سے متعلق سوال پر امریکی مؤقف
پروگرام کے دوران جے ڈی وینس سے یہ بھی پوچھا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابتدائی طور پر ظاہر کی گئی توقعات کے باوجود امریکا اب تک جنگ میں فیصلہ کن فتح کیوں حاصل نہیں کرسکا۔امریکی نائب صدر نے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ بعض پہلوؤں سے امریکا فیصلہ کن کامیابی حاصل کرچکا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جنگ کا حتمی نتیجہ ایران کے اقدامات پر منحصر ہے۔ ان کے مطابق، جنگ میں مخالف فریق کے فیصلے بھی نتائج پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

ایران کے جوہری پروگرام پر ضمانت حاصل کرنے کی کوشش
وینس نے امریکی انتظامیہ کی حکمتِ عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران سے ٹھوس اور حتمی یقین دہانی حاصل کرنا چاہتا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ بحال نہیں کرے گا۔امریکی حکومت کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود رکھنا جنگ سے متعلق اہم اہداف میں شامل ہے، تاہم اس مقصد کے حصول اور جنگ کے حتمی نتیجے کے حوالے سے دونوں فریقوں کے مؤقف میں اختلافات برقرار ہیں۔