امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو ریپبلکن پارٹی کی وسط مدتی انتخابات میں شکست کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسی پر کھل کر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کی سیاسی قیمت ریپبلکنز کو بھاری پڑی اور پارٹی کو سینیٹ میں اپنی اکثریت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کے اسباب کا جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہماری شکست کی اصل وجہ ایران کے ساتھ جنگ ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔جے ڈی وینس نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے بدلے آئندہ چھ سال کے لیے سینیٹ میں اکثریت کھونا ایک درست سودا تھا تو اسے کھل کر اپنے مؤقف کا دفاع کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق انتخابی نتائج کے بعد مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر کوئی بھی سنجیدہ گفتگو ایران جنگ کے اثرات کو تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں۔امریکی نائب صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو بھاری انتخابی نقصان اٹھانا پڑا اور ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس نتیجے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے لیے آئندہ دو سال کے دوران قانون سازی اور سیاسی معاملات میں نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
جے ڈی وینس نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ اور وینس کو ووٹ دینے والے متعدد امریکی شہری 2026 کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی حمایت کی طرف چلے گئے۔ ان کے مطابق ووٹرز ایران جنگ کے خاتمے، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں کمی، امریکہ فرسٹ پالیسی اور اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات پر نظرثانی چاہتے تھے۔انہوں نے ایک سیاسی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پہلے ہی اشارے مل گئے تھے کہ ٹرمپ کے سابق ووٹرز میں ناراضی بڑھ رہی ہے اور ان میں سے بہت سے ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔جے ڈی وینس کے بیان کو امریکی سیاسی حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ ان کے تازہ مؤقف کو ایران جنگ کے سیاسی اثرات سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ انہیں 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن پارٹی کا ممکنہ امیدوار سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی انتخابی شکست میں ایران جنگ کے کردار کو تسلیم کیا ہے، تاہم انہوں نے جنگ شروع کرنے کے اپنے فیصلے پر کسی قسم کی پشیمانی ظاہر نہیں کی۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران جنگ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں شامل تھی، لیکن ان کے نزدیک ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ درست تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر انہیں دوبارہ ایسا فیصلہ کرنے کا موقع ملے تو وہ ایک مرتبہ پھر یہی قدم اٹھائیں گے۔
امریکی سیاست میں سامنے آنے والے ان بیانات کے بعد ٹرمپ اور ان کے نائب صدر کے درمیان ایران جنگ کے سیاسی اثرات سے متعلق مؤقف کا فرق نمایاں ہو گیا ہے۔ ایک طرف جے ڈی وینس انتخابی شکست کی بنیادی وجہ جنگ کو قرار دے رہے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ انتخابی نقصان کے باوجود فوجی کارروائی کے فیصلے کا دفاع کر رہے ہیں۔