اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی بیوی بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران نیب (نیشنل کرپشن بیورو) کے لیے اسپیشل پراسکیوٹر تعینات کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔سماعت قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے کی۔ نیب کی جانب سے اسپیشل پراسکیوٹر رافع مقصود عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عمران خان کی قانونی ٹیم کی نمائندگی بیرسٹر سلمان صفدر کر رہے تھے۔بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس سمیت مختلف مقدمات قائم ہیں، اور ان کے خلاف سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے لیے تاریخ حاصل کرنا مشکل تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو چھ ماہ سے جیل میں رکھا گیا ہے جبکہ فیصلوں کی تفصیلات صرف جج کو معلوم ہوتی ہیں۔نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک اس کیس کے لیے کوئی مستقل اسپیشل پراسکیوٹر جنرل تعینات نہیں کیا، اور انہیں گزشتہ رات کیس کا نوٹس ملا ہے، اس لیے مزید وقت درکار ہے۔
انہوں نے چار ہفتوں کی مہلت طلب کی۔عدالت نے نیب کو سات دن میں پراسکیوشن ٹیم کی نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے مزید وقت کی درخواست کی تو عدالت نے سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔معروف وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے جیل میں ہیں، اور نہ وہ ملک چھوڑیں گے اور نہ ریکارڈ چھیڑ چھاڑ کا خطرہ ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے نیب کو ہدایت کی کہ وہ سات دن میں اسپیشل پراسکیوٹر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کرے۔یہ کیس عمران خان اور بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ اسکینڈل سے متعلق 190 ملین پاؤنڈ کے مالی بے ضابطگیوں کا الزام ہے، جس میں عدالتوں میں سزا معطلی اور دیگر قانونی پیچیدگیوں پر سماعت جاری ہے۔