قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے نے یرغمالیوں کی رہائی کی تمام امیدوں کو ختم کر دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے قطری وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے، اس لیے انہیں عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے تازہ حملے نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ غزہ میں قید یرغمالیوں کا مستقبل بھی مزید تاریک کر دیا ہے۔ ’’اب ان کی رہائی تقریباً ناممکن دکھائی دیتی ہے‘‘، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔یاد رہے کہ 9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر ایک بڑا فضائی حملہ کیا تھا جس میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔
حماس کے ترجمان کے مطابق اس حملے میں تنظیم کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے اور دفتر کے ڈائریکٹر سمیت 6 افراد شہید ہوئے، تاہم مرکزی قیادت محفوظ رہی۔قطر کی وزارتِ داخلہ نے بھی تصدیق کی کہ حملے کے نتیجے میں ایک قطری سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ ایک زخمی ہوا۔ اس حملے نے نہ صرف خطے کی کشیدگی کو بڑھا دیا بلکہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری تمام مذاکراتی عمل کو بھی تعطل کا شکار کر دیا ہے۔