تل ابیب / تہران / واشنگٹن: اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح ایران نے اسرائیل پر دو مرحلوں میں مجموعی طور پر چھ میزائل داغے، جن میں سے ایک جنوبی شہر بئر شیبہ (Be'er Sheva) کے ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس سے جا ٹکرایا، جس سے رہائشی علاقہ بری طرح متاثر ہوا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق:
“پہلے مرحلے میں دو میزائل داغے گئے، جب کہ دوسرے مرحلے میں چار۔ ان میں سے ایک میزائل براہ راست بئر شیبہ کے رہائشی علاقے پر گرا۔”اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ ایران سے داغے گئے ایک اور میزائل کی نشاندہی ہو چکی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں جلد ہی سائرن بجائے جائیں گے تاکہ شہری محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو سکیں۔
بین الاقوامی میڈیا کی تصدیق
بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے حملے کے بعد کی تصاویر شائع کی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزائل حملہ ایک رہائشی عمارت پر ہوا ہے، جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ زخمیوں یا جانی نقصان سے متعلق ابھی تک سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ایمبولینسز موقع پر پہنچ چکی ہیں۔
دوسری جانب، ٹرمپ کا امن پر زور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ "ٹرتھ سوشل" پر لکھا کہ:“اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ فیصلہ کن گھڑی آ چکی ہے۔”“اصل فتح ساری دنیا اور مشرقِ وسطیٰ کی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک اپنے مستقبل میں بے پناہ محبت، امن اور خوشحالی دیکھیں گے۔”ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور ایران دونوں نے "تقریباً ایک ہی وقت میں" ان سے رابطہ کیا اور امن کی خواہش کا اظہار کیا۔
صورت حال غیر واضح
اگرچہ امریکہ کی جانب سے امن کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، لیکن ایران اور اسرائیل میں سے کسی نے بھی جنگ بندی کو باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ:"جب تک اسرائیل حملے بند نہیں کرتا، ایران بھی کارروائی روکے گا نہیں۔"