خوراک کی آخری امید بھی بجھنے لگی؛ غزہ کے کمیونٹی کچن بند ہونے کو ہیں

خوراک کی آخری امید بھی بجھنے لگی؛ غزہ کے کمیونٹی کچن بند ہونے کو ہیں

 غزہ میں شدید انسانی بحران
خوراک کی شدید قلت: اسرائیل کی جانب سے امداد روکے جانے کے باعث غزہ میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً پوری غزہ کی آبادی کو خوراک کے لیے انسانی امداد پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔مایوسی اور بے بسی: خان یونس میں خوراک بانٹنے کے مقام پر خواتین، بچے اور بزرگ برتن لے کر امداد کے لیے ہجوم میں دھکے کھاتے دکھائی دیے۔ ایک خاتون نوین ابو عرار اپنی 8 بچوں کے لیے کھانے کی ایک پلیٹ بھی نہ لے سکیں اور خالی برتن لے کر واپس لوٹیں۔
قیمتیں آسمان پر: 25 کلو آٹے کا تھیلا 1,300 شیکل (تقریباً 360 امریکی ڈالر) میں فروخت ہو رہا ہے، جو کہ عام شہری کی پہنچ سے باہر ہے۔
  اسرائیلی ناکہ بندی اور اس کے اثرات
خوراک، ادویات اور ایندھن کی رسد بند: اسرائیل نے مارچ سے امداد کی فراہمی تقریباً مکمل طور پر بند کر دی ہے، جس کی وجہ سے گودام خالی اور کمیونٹی کچن بند ہونے کے قریب ہیں۔
زرعی اراضی تباہ: اسرائیلی فضائی حملوں نے غزہ کی زرعی زمین، مویشی اور ماہی گیری کا نظام تباہ کر دیا، جس سے مقامی پیداوار ناممکن ہو گئی ہے۔
پناہ گاہوں کی شدید کمی: نارویجین ریفیوجی کونسل کے مطابق 10 لاکھ سے زائد افراد کو پناہ کی ضرورت ہے جبکہ امدادی اداروں کے پاس کوئی خیمے باقی نہیں بچے۔
  سیاسی اور عسکری تناظر
جنگ بندی کی ناکامی: حماس نے جنگ بندی میں توسیع سے انکار کیا، جس کے بعد اسرائیل نے مسلسل حملے تیز کر دیے ہیں۔
اسرائیلی مؤقف: اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ وہ یرغمال اسرائیلیوں کو رہا کرے۔ اسرائیل یہ الزام بھی عائد کرتا ہے کہ حماس امداد چوری کر کے اپنے جنگجوؤں کو دیتی ہے تاکہ عوام پر اپنا کنٹرول قائم رکھ سکے۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزی؟: امدادی ادارے اسرائیلی اقدامات کو "اجتماعی سزا" قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
  بین الاقوامی اداروں کی تشویش
اقوام متحدہ اور آکسفیم کی وارننگ: دونوں ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ خوراک کے بغیر ہزاروں بچے غذائی قلت کا شکار ہو رہے ہیں، اور اگر ناکہ بندی جاری رہی تو ہزاروں لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔
این جی اوز کے کچن بند ہونے کا خدشہ: فلسطینی این جی او نیٹ ورک کے مطابق 70 سے زائد کمیونٹی کچن ایک ہفتے کے اندر بند ہو سکتے ہیں۔
  خلاصہ
غزہ میں موجودہ صورتحال انسانی المیے کی بدترین شکل اختیار کر چکی ہے جہاں روزمرہ خوراک، ادویات، پانی اور پناہ گاہ جیسی بنیادی ضروریات میسر نہیں۔ امدادی تنظیمیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ اگر دنیا نے فوری مداخلت نہ کی تو ہزاروں جانیں ضائع ہو جائیں گی۔